جون 2026 کے آخر تک امریکہ اور ایران ایک عبوری معاہدے پر پہنچ چکے ہیں جسے اسلام آباد میمورنڈم (Islamabad Memorandum) کہا جاتا ہے اور جس پر 17 جون کو دستخط کیے گئے۔ یہ مفاہمتی یادداشت (MOU) آبنائے ہرمز کو تیل کی ترسیل کے لیے دوبارہ کھولتی ہے، ایران کو پابندیوں میں نرمی فراہم کرتی ہے اور جوہری مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے 60 دن کی مدت مقرر کرتی ہے۔ یہ معاہدہ کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے قریب آنے کے باعث اس پر عوامی ردعمل امریکیوں کی خارجہ پالیسی، جنگ سے تھکن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کے بارے میں خیالات کی عکاسی کرتا ہے۔
تازہ سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں، لیکن طویل المدتی کامیابی کے بارے میں گہرے شکوک رکھتے ہیں۔ 17 سے 19 جون کے درمیان کیے گئے CBS News/YouGov سروے کے مطابق 78 فیصد امریکی چاہتے ہیں کہ یہ تنازع اب ختم ہو جائے، بجائے اس کے کہ امریکہ اپنے تمام اہداف حاصل ہونے تک جنگ جاری رکھے۔ تقریباً دس میں سے سات افراد (69 فیصد) کا خیال ہے کہ جنگ اپنی لاگت کے مقابلے میں فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی، جو طویل لڑائی، پٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور جانی نقصانات کے حوالے سے وسیع پیمانے پر مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔
ایران کے ساتھ دشمنی اور فوجی کشیدگی کے خاتمے کی حمایت امریکہ میں کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ مختلف سیاسی حلقوں میں پائی جاتی ہے۔ اگرچہ ریپبلکن، ڈیموکریٹس اور آزاد خیال ووٹر اس معاہدے کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں، لیکن اکثریت کا خیال ہے کہ جنگ کے مقابلے میں امن اور استحکام امریکہ کے مفاد میں ہے۔ معاہدے پر دستخط کے وقت Fabrizio Lee & Associates کے ایک سروے میں اسلام آباد میمورنڈم کے حق میں مجموعی طور پر 67 فیصد حمایت سامنے آئی۔ بہت سے افراد نے جنگ کے خاتمے اور تیل کی فراہمی کی بحالی سے ممکنہ معاشی فوائد کو اپنی حمایت کی وجہ قرار دیا۔ ٹرمپ نے ان اعداد و شمار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 51 فیصد جواب دہندگان امریکی صارفین اور کسانوں کے لیے فوائد کی توقع رکھتے ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تیل کی فراہمی معمول پر آنے اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام سے امریکی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے بہت سے امریکیوں کی نظر میں یہ معاہدہ صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ معاشی ریلیف کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔
اس معاہدے سے کس کو زیادہ فائدہ حاصل ہوا، اس بارے میں بھی عوامی سطح پر مختلف آراءموجود ہیں۔ CBS کے سروے کے مطابق 37 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ یہ یادداشت امریکہ کے مقابلے میں ایران کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی، جبکہ صرف 22 فیصد افراد اسے امریکہ کے حق میں بہتر سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب 41 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے دونوں ممالک کو تقریباً برابر فائدہ حاصل ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام جنگوں اور طویل فوجی مداخلتوں سے تھک چکے ہیں اور اب تنازعات کے فوجی حل کے بجائے سفارتی اور پرامن طریقوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اگرچہ اس معاہدے کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے درمیان واضح اختلافات موجود ہیں، لیکن رائے مکمل طور پر جماعتی بنیادوں پر منقسم نہیں۔ ریپبلکن ووٹرز کا ایک بڑا حصہ اس معاہدے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہونے سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آئے گا، جس کے مثبت معاشی اثرات امریکہ اور دنیا پر پڑیں گے۔ اس کے برعکس ڈیموکریٹس اور بہت سے آزاد خیال ووٹر زیادہ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ ماضی کے معاہدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا تہران اپنے وعدوں پر مکمل عمل کرے گا اور جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کیسے یقینی بنائی جائے گی۔ اسی دوران آزاد ووٹرز کا بڑا حصہ جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے، لیکن معاہدے کی طویل المدتی پائیداری اور عملی نتائج کے بارے میں اب بھی شکوک و شبہات رکھتا ہے۔
عمر، جنس اور دیگر سماجی گروہوں کے حوالے سے اعداد و شمار بھی اس معاہدے کے بارے میں امریکی رائے کی دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق 35 سال سے کم عمر امریکیوں میں معاہدے کی حمایت سب سے زیادہ یعنی تقریباً 72 فیصد ہے۔ نوجوان نسل عموماً فوجی تنازعات کے خاتمے، سفارتی حل اور انسانی ہمدردی کے پہلوو¿ں کو زیادہ اہمیت دیتی ہے، اس لیے وہ ایسے اقدامات کو مثبت نظر سے دیکھتی ہے۔ اس کے مقابلے میں 65 سال سے زائد عمر کے ووٹر زیادہ محتاط اور شکی ہیں، جہاں حمایت کی شرح 55 فیصد تک محدود ہے۔ اس عمر کے افراد میں قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور ایران کے حوالے سے ماضی کے تجربات کی وجہ سے عدم اعتماد کے عناصر زیادہ نمایاں ہیں۔
صنفی لحاظ سے بھی رائے میں کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ خواتین میں جنگ اور طویل تنازعات کے بارے میں تھکن نسبتاً زیادہ محسوس کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق 82 فیصد خواتین فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی حمایت کرتی ہیں، جبکہ مردوں میں یہ شرح 74 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام کی بڑی اکثریت سیاسی اور سماجی اختلافات کے باوجود کشیدگی کم کرنے اور جنگ سے بچنے کو ترجیح دیتی ہے۔
تاہم اس معاہدے کے نفاذ سے متعلق چیلنجز اب بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ بہت سے ماہرین سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا صرف 60 دن کے مختصر عرصے میں ایک جامع اور پائیدار جوہری معاہدہ طے کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اسی دوران اسرائیل سمیت بعض علاقائی فریقوں نے بھی اپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اگر مستقبل میں معاہدے کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس سامنے آئیں، جوہری سرگرمیوں پر تنازع بڑھے یا عالمی تیل کی قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھیں تو عوامی حمایت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن (Brookings Institution) اور دیگر تحقیقی مراکز کے تجزیہ کار بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگر تصدیق اور نگرانی کے معاملات پر اختلافات برقرار رہے یا پراکسی جنگوں سے متعلق خبریں میڈیا میں نمایاں رہیں تو خاص طور پر آزاد ووٹرز کی رائے تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایسے ووٹر عموماً بیانات اور وعدوں کے بجائے عملی نتائج کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ فی الحال امریکی عوام کا مجموعی رویہ حقیقت پسندی پر مبنی نظر آتا ہے۔ زیادہ تر امریکی شہری کسی مکمل فتح یا شکست کے بجائے خطے میں امن، کشیدگی کے خاتمے اور معاشی ریلیف کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے باوجود عوام کا ایک بڑا حصہ اب بھی یہ نہیں سمجھتا کہ یہ معاہدہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کوئی مستقل اور تاریخی تبدیلی لا سکے گا۔
معاہدے کی طویل المدتی پائیداری اور امن کے بارے میں امریکی عوام میں کافی شکوک و شبہات موجود ہیں۔ Reuters/ Ipsos کے ایک سروے کے مطابق 63 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ مستقل امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاملے میں شکوک سیاسی وابستگیوں سے بالاتر نظر آتے ہیں؛ تقریباً نصف ریپبلکن اور دس میں سے آٹھ ڈیموکریٹس بھی معاہدے کی پائیداری کے بارے میں محتاط ہیں۔ مجموعی طور پر صرف 18 فیصد افراد کو امید ہے کہ یہ قدم خطے میں طویل المدتی امن لا سکتا ہے۔
اسی طرح CBS/YouGov کے سروے سے ظاہر ہوا کہ 57 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ حالیہ تنازع نے کئی مسائل حل کرنے کے بجائے نئے مسائل پیدا کیے ہیں۔ بہت سے امریکی اس معاہدے کو کسی واضح تزویراتی فتح کے بجائے جنگ کے خاتمے کی خواہش کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ سروے کے مطابق 66 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے اپنے تمام اعلانیہ اہداف کے حصول کے مقابلے میں جنگ بند کروانے اور کشیدگی کم کرنے کو ترجیح دی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ عوام کی بڑی اکثریت جنگ کے خاتمے کی حمایت کرتی ہے، لیکن ان کے ذہنوں میں اب بھی یہ سوال موجود ہے کہ آیا یہ معاہدہ واقعی ایک پائیدار حل ثابت ہوگا یا صرف ایک عارضی وقفہ۔
امریکی عوام کی اکثریت کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی حمایت کرتی ہے، لیکن یہ حمایت احتیاط اور حقیقت پسندی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہ معاہدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنازع کے خاتمے اور سفارتی کامیابی کا ایک مضبوط سیاسی بیانیہ فراہم کرتا ہے، لیکن اس کی حقیقی سیاسی اہمیت اس بات پر منحصر ہے کہ 2026 کے باقی مہینوں میں علاقائی استحکام کس حد تک برقرار رہتا ہے اور معاہدے کے عملی نتائج کس حد تک سامنے آتے ہیں۔ امریکی عوام اب معاہدے کے بعد کی صورتحال کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ زیادہ تر لوگ ایسے نتائج دیکھنا چاہتے ہیں جو جنگ سے بچاو¿، معاشی استحکام اور علاقائی امن کی امیدوں سے مطابقت رکھتے ہوں، لیکن ساتھ ہی وہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے سے وابستہ ممکنہ خطرات سے بھی آگاہ ہیں۔
٭٭٭٭
آخرکار، اگر یہ معاہدہ اپنے اعلانیہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ مڈٹرم انتخابات سے قبل ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے بارے میں ووٹرز کے اعتماد کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ لیکن اگر معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹیں پیدا ہوں، نئے تنازعات جنم لیں یا اسے کمزور معاہدہ سمجھا جائے تو یہ پہلے سے موجود شکوک و شبہات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ معاہدہ قومی اتفاقِ رائے کا ذریعہ بننے کے بجائے امریکی سیاست میں ایک نئے متنازع مباحثے کا موضوع بن سکتا ہے۔ امریکی عوام فی الحال نہ مکمل فتح کا جشن منا رہے ہیں اور نہ ہی اس معاہدے کو تاریخ کا فیصلہ کن موڑ قرار دے رہے ہیں؛ وہ صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ سفارتی قدم واقعی جنگ کے خطرے کو کم کرتا ہے، معاشی استحکام لاتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کو ایک زیادہ پرامن مستقبل کی جانب لے جاتا ہے یا نہیں۔
امریکہ۔ایران امن معاہدہ: مختلف سرویز اور امریکی عوام