معاشی غربت

تحریر خاکسار تبسم

ملک میں معاشی طور پر غربت کا ایک ایسا حیران کن اور انوکھا پیمانہ مقرر کیا گیا ہے جس نے عوام کو حیرت، اور بے بسی میں مبتلا کر دیا ہے۔کیونکہ اس پیمانے کے مطابق جو شخص ماہانہ 8500 روپے کماتا ہے، وہ خطِ غربت سے اوپر شمار ہوگا، جبکہ اس سے کم آمدنی رکھنے والا غریب کہلائے گا۔ گویا اس نئی پالیسی کے تحت سات کروڑ غریب اب کاغذوں میں “امیر” بن چکے ہیں اور بقول ان کے جنھوں نے پیمانہ مقرر کیا ہے کہ اس سے غربت کا خاتمہ ہو گا۔یہ شاید دنیا کی واحد ایسی معیشت ہوگی جہاں غربت ختم کرنے کیلئے عوام کی زندگی بہتر نہیں بنائی جاتی بلکہ غربت کا معیار ہی نیچے گرا دیا جاتا ہے۔ اس بھیانک مذاق کے ذریعے نہ صرف غربت کا مذاق اڑایا گیا ہے بلکہ کروڑوں سفید پوش خاندانوں کی مشکلات کو بھی نظر انداز کر دیا گیا ہے مگر یہ کھیل آج کا نہیں بلکہ گزشتہ (78) برسوں سے جاری ہے۔ ہر دور میں عوام کو نان ایشوز میں الجھا کر اصل مسائل سے توجہ ہٹائی گئی،نتیجہ یہ نکلا کہ امیر امیر تر ہوتا گیا اور غریب غریب تر ہوتا گیا۔اگر واقعی 8500 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والا شخص غریب نہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مراعات یافتہ طبقہ کا اس رقم میں سے ایک مہینہ کا گزار اور شاہی خرچ کیا ہو گا اگر نہیں، تو پھر غریب عوام کیلئے یہی معیار (پیمانہ ) کیوں مقرر کیا جا رہا ہے ایک مہنگائی کی شرح میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، دودھ، بجلی، گیس اور ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ایک مزدور صرف آٹا خریدے تو بھی ماہانہ خرچ 8500 روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔ بچوں کی تعلیم، علاج، کرایہ، بجلی، گیس اور دیگر ضروریات زندگی تو اس کے بعد آتی ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید مراعات یافتہ طبقہ سمجھتا ہے کہ غریب آدمی کو زندہ رہنے کیلئے صرف سانس کافی ہے۔ اگر یہی معیارِ زندگی ہے تو پھر ان کو چاہیے کہ وہ مراعات یافتہ طبقہ کی بھی 8500 روپے پیمانہ مقرر کر دے اور ان کی شاہانہ مراعات ختم کی جائیں، تب شاید انہیں اندازہ ہو کہ غربت کیا ہوتی ہے۔جہاں وہ خود کو عوام کا خادم سمجھتے تھے، اب بدقسمتی سے انھوں نے غربت کو اعداد و شمار کا کھیل بنا دیا ہے۔ کاغذوں میں غربت کم ہو سکتی ہے، مگر حقیقت میں بھوک، بے روزگاری اور محرومی بڑھتی جا رہی ہے۔ عوام کے خالی برتن، بجھے چولہے اور فاقہ زدہ بچے ان کی دعوو¿ں کی اصل حقیقت بیان کر رہے ہیں۔غربت کوئی مذاق نہیں، بلکہ عوام کی تلخ حقیقت ہے۔ جب تک مراعات یافتہ طبقہ خود کو عوام کے برابر نہیں لاتا، اس وقت تک نہ غربت ختم ہوگی، نہ مہنگائی کم ہوگی، اور نہ ہی عوام کے دلوں میں ان پر اعتماد بحال ہو گا۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں