سیدنا عمر فاروقؓ عدل شجاعت اور قیادت کا روشن مینار

تحریر: ظہیر محمد حسنی
سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ عظیم المرتبت صحابی خلیفہ راشد فاتح حکمران اور مرادِ رسول تھے۔ آپ رضی اللّٰہ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو بے پناہ قوت اور استحکام حاصل ہوا۔ نبی کریم نے آپ کے بارے میں فرمایا ”میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں، لیکن اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے وصال کے بعد آپ خلیفہ راشد بنے۔ آپ کے دورِ خلافت میں مسلمانوں نے اس وقت کی بڑی بڑی سلطنتوں کو زیر کیا اور دنیا کی سپر پاور سمجھی جانے والی طاقتوں ایران و روم کو شکست دی۔ آپ فاتحِ شام فاتحِ ایران فاتحِ بیت المقدس اور فاتحِ قیصر و کسریٰ تھے۔ آپ کے دورِ حکومت میں اسلامی ریاست تقریباً 44 لاکھ مربع میل تک پھیل گئی۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ ہر وقت خوفِ خدا میں مبتلا رہتے تھے۔ آپ بہترین حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی روشن مثال بھی تھے۔ آپ کا عدل ایسا تھا کہ دشمن بھی آپ کے انصاف کے معترف تھے ہیبت ایسی تھی کہ شیطان بھی آپ کا راستہ بدل لیتا تھا فراست ایسی تھی کہ متعدد مواقع پر آپ کی رائے وحیِ الٰہی کے موافق ہوئی زہد ایسا تھا کہ وسیع سلطنت کے حکمران ہونے کے باوجود سادہ زندگی گزاری اور جرات ایسی تھی کہ حق بات کہنے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہ کی۔ آپ رضی اللّٰہ عنہ کی رحمت کا یہ عالم تھا کہ راتوں کو مدینہ منورہ کی گلیوں میں گشت کرتے رعایا کے حالات معلوم کرتے اور ضرورت مندوں کی مدد فرماتے تھے۔ یتیموں ، بیواو¿ں ، مسکینوں اور کمزور طبقات کی خبر گیری کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ آپ نے شیر خوار بچوں ، یتیموں اور محتاجوں کے وظائف مقرر کیے تاکہ حق داروں تک ان کا حق پہنچ سکے۔ محبتِ رسول آپ کے ایمان کا نمایاں وصف تھی۔ آپ اپنی جان مال اور ہر چیز کو حضور اکرم پر قربان کرنا سعادت سمجھتے تھے۔ صدق و اخلاص ایسا تھا کہ حق بات سن کر فوراً سرِ تسلیم خم کر دیتے تھے جبکہ تواضع کا یہ عالم تھا کہ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود اپنے کپڑوں پر خود پیوند لگاتے تھے۔سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ عشرہ مبشرہ میں شامل ، صاحبِ الہام ، امام العدل ، مجاہدِ کبیر ، ناصرِ اسلام ، علم و عمل کا پیکر اور حکمت و تدبر کے عظیم نمونہ تھے۔ آپ رسول اللّٰہ کے مشیر امیر المو¿منین خلیفة المسلمین اور امت کے عظیم رہنما تھے۔ آپ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ نبی کریم کے سسر تھے اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہ کے داماد بھی تھے۔ آپ کے دورِ خلافت میں عدل و انصاف کا ایسا بول بالا تھا کہ ہر مظلوم کو یقین ہوتا تھا کہ اسے انصاف ضرور ملے گا۔ یہی وہ دور تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے تھے۔ تاریخِ اسلام نے حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ جیسا حکمران کم ہی دیکھا ہے۔ آپ کے سنہرے دور کے کارنامے آج بھی زندہ و جاوید ہیں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے اسلامی ریاست میں متعدد اصلاحات متعارف کرائیں۔ آپ نے پولیس کا محکمہ قائم کیا فوجی نظام کو منظم کیا محکمہ آبپاشی اور نہری نظام کو فروغ دیا اور فلاحی ریاست کی مضبوط بنیادیں رکھیں۔ آپ کی حکمتِ عملی دور اندیشی اور انتظامی صلاحیتوں کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ یکم محرم الحرام سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا یومِ شہادت ہے۔ اس موقع پر امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ آپ کی سیرتِ طیبہ ، کردار ، عدل ، تقویٰ ، خدمتِ خلق اور عشقِ رسول کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائے۔ حکومتِ وقت کو بھی چاہیے کہ یومِ فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے موقع پر سرکاری سطح پر کانفرنسز سیمینارز اور سیرت کانفرنسوں کا انعقاد کرے اور قومی میڈیا پر آپ کی حیاتِ مبارکہ اور خدمات کو اجاگر کیا جائے تاکہ نئی نسل اپنے عظیم رہنما کی سیرت و کردار سے آگاہ ہو اور ان کے نقشِ قدم پر چل کر اسلام اور امتِ مسلمہ کی ترقی و سربلندی کا سبب بنے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی سیرتِ مبارکہ سے رہنمائی حاصل کرنے اور ان کے عدل ، تقویٰ ، دیانت اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں