سونمیانی وندر(رپورٹ/زبیر بلوچ)وندر، گڈانی سے اورماڑہ تک سمندری حدود میں ممنوعہ وائر نیٹ جال کا استعمال چھوٹی مچھلیوں کا غیر قانونی شکار جاری محکمہ فشریز لسبیلہ حب کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سمندر بانجھ ہونے کا خدشہ چھوٹے ماہی گیر نانِ شبینہ کے محتاج ہوگئے سمندری وسائل کی تباہی کا سلسلہ نہ رک سکا مچھلیوں کی نسلیں ناپید ہونے لگیں۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقوں گڈانی ، ڈام بندر ، کنڈ ملیر ، اورماڑہ تک سمندری حدود میں بڑی لانچوں اور کشتیوں کے ذریعے مبینہ طور پر ممنوعہ جال وائر نیٹ استعمال کرکے چھوٹی مچھلیوں کا بے دریغ شکار کیا جا رہا ہے۔ گڈانی سے اورماڑہ تک ممنوعہ وائر نیٹ جالوں کے مسلسل استعمال سے چھوٹی مچھلیوں کے ساتھ سمندری حیات کی دیگر اقسام بھی بڑی تعداد میں شکار ہو رہی ہیں جس سے مچھلیوں کی نسلیں ناپید ہونے اور سمندر کے قدرتی وسائل و افزائشِ نسل کا نظام تباہ ہو کر سمندر کے بانجھ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ فشریز قوانین موجود ہونے کے باوجود محکمہ فشریز لسبیلہ حب کے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت اور چشم پوشی کے باعث غیر قانونی ماہی گیری کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے ۔ دوسری جانب مقامی چھوٹے ماہی گیر اپنے ہی سمندری علاقوں میں غیر قانونی شکار کے باعث معاشی بدحالی کا شکار ہوکر نانِ شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ، سیکریٹری فشریز بلوچستان ، کمشنر لسبیلہ ڈویژن گڈانی سے اورماڑہ تک سمندری حدود میں ممنوعہ وائر نیٹ جال کے ذریعے غیر قانونی شکار کا فوری نوٹس لے کر ایسے جال استعمال کرنے والی لانچوں اور کشتیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم صادر کریں ممنوعہ جال ضبط کیے جائیں اور محکمہ فشریز کے افسران و اہلکاروں کی مبینہ غفلت اور ملی بھگت کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ سمندری حیات مچھلیوں کی نسلوں اور مقامی ماہی گیروں کے روزگار کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔
گڈانی سے اورماڑہ تک ممنوعہ وائر نیٹ جال کا استعمال چھوٹی مچھلیوں کا غیر قانونی شکار جاری
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل