وندر میں ماں بیٹے کے دو جنازے اٹھنے پر گھر میں صف ماتم

سونمیانی وندر(نمائندہ بلوچستان آبزرور)وندر میں ماں بیٹے کے دو جنازے اٹھنے پر گھر میں صف ماتم بچھ چکی ہے پولیس سمیت انتظامیہ ذمہ دار ہے ایمرجنسی میں سہولیات فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے میرا بھائی تڑپ تڑپ کر دم توڑ گیا۔ ہر فورم پر انصاف کے لیے لڑیں گے قانون کا احترام کرتے ہیں لیکن انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر نکلنے کے ساتھ ساتھ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔ معصوم لوگوں کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر کچلا جا رہا ہے وندر گیٹ وے ہے اگر یہی رویہ رہا تو یہاں سے کوئی کوچ نہیں گزرے گی ۔ ہمارے معصوم بھائی کو کچلنے والی گاڑی کا ڈرائیور پولیس کی گرفت سے آزاد ہے جو ہمارے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ 3 دن تک انصاف نہ ملا تو پھر ہم پر کوئی معیار نہیں کرے۔ ان خیالات کا اظہار شہید ظہیر سوری کے بھائی عقیل الرحمٰن سوری نے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ برائے نام ہے وندر کے لوگوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے مظلوم کی فریاد سننے والا کوئی نہیں پولیس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں مقامی انتظامیہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ SHO وندر ، DSP اور ڈیوٹی آفیسر کی معطلی تک خاموش نہیں رہیں گے ۔ پریس کانفرنس میں اظہار یکجہتی کرنے والوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق 10 روز قبل وندر بازار میں نامعلوم مسافر کوچ نے راہگیر نوجوان ظہیر سوری کو ٹکر ماری جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوگئے جبکہ ڈرائیور گاڑی سمیت فرار ہوگیا۔ ڈرائیور کی عدم گرفتاری کے خلاف ورثاء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وندر پولیس نے غفلت کا مظاہرہ کیا اور گاڑی بآسانی اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئی۔ ورثاء نے واقعے کا ذمہ دار وندر پولیس کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس نے جان بوجھ کر گاڑی کو جانے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں علاج کی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جس کے باعث بھائی جان کی بازی ہار گیا جبکہ بیٹے کے صدمے سے ماں بھی تیسرے روز وفات پاگئی۔ گھر سے دو جنازے اٹھ گئے لیکن انصاف ملتا نظر نہیں آرہا۔ شہید کے بھائی عقیل سوری نے کہا کہ اپنے بھائی کو انصاف دلانے کے لیے ضرورت پڑنے پر میدان میں بھی نکلیں گے ۔ اس موقع پر کونسلر غلام مصطفیٰ بلوچ ، کامریڈ امام بخش انگاریہ ، غلام قادر رادھانی انگاریہ اور خالق انگاریہ نے بھی پریس کانفرنس میں اظہار یکجہتی کرتے ہوئے خطاب کیا اور کہا کہ وہ ورثاء کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ۔ اس موقع پر شیر محمد انگاریہ ، عبداللہ سوری ، ثناء اللہ انگاریہ ، وڈیرہ اکبر صابرہ ، جاوید علی سوری ، جمعہ جتک ، محمد سلیم سوری ، اکبر انگاریہ ، امیر بخش بٹھائی انگاریہ ، بلال سوری ، نور امین مسعود ، محمد اختر خاصخیلی ، صالح محمد انگاریہ ، قدیر احمد دودا ، حبیب اللہ انگاریہ ، عادل انگاریہ ، وڈیرہ کارو فقیر ، مولا بخش انگاریہ ، کریم بخش انگاریہ ، عبداللہ منگیانی سمیت دیگر کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں