تحریر: حافظ محمد اسامہ پسروری
انسان کی زندگی میں عزت، پہچان اور پذیرائی کی خواہش ایک فطری امر ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی محنت کو تسلیم کیا جائے، اس کے کردار کی قدر ہو اور معاشرے میں اسے ایک باوقار مقام حاصل ہو۔ لیکن اس خواہش کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی وابستہ ہے: کیا کامیابی کا معیار لوگوں کی نظروں میں مقبول ہونا ہے یا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنا؟ یہی سوال انسان کی ترجیحات، اس کے کردار اور زندگی کے مقصد کا تعین کرتا ہے۔
مقبولیت کی خواہش اس وقت تک قابلِ فہم ہے جب تک وہ انسان کو اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے، مثبت کردار ادا کرنے اور معاشرے کے لیے مفید بننے کی ترغیب دیتی رہے۔ لیکن جب لوگوں کی تعریف زندگی کا بنیادی مقصد بن جائے تو ترجیحات بدلنے لگتی ہیں۔ انسان اپنے اعمال کی درستی سے زیادہ ان کے تاثر کی فکر کرنے لگتا ہے۔ اسے اس بات سے زیادہ دلچسپی ہونے لگتی ہے کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ اپنے کردار اور عمل کا کس طرح جائزہ لے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مقبولیت کی خواہش انسان کی فکری آزادی اور اخلاقی استقامت پر اثرانداز ہونے لگتی ہے۔
جب انسان اپنی قدر و قیمت کا پیمانہ دوسروں کی رائے کو بنا لیتا ہے تو وہ رفتہ رفتہ اپنی ترجیحات کا اختیار بھی دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے۔ پھر تعریف اس کے لیے اطمینان اور تنقید بے چینی کا سبب بن جاتی ہے۔ وہ بعض اوقات درست بات کہنے سے بھی گریز کرتا ہے، محض اس خوف سے کہ کہیں اس کی مقبولیت متاثر نہ ہو جائے۔ اس طرح لوگوں کو خوش رکھنے کی کوشش میں وہ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرنے لگتا ہے، حالانکہ کردار کی اصل مضبوطی اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر حق اور دیانت کا ساتھ دیتا ہے۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ شہرت اور مقبولیت بذاتِ خود نہ کسی کی نیکی کا قطعی ثبوت ہیں اور نہ عدمِ شہرت کسی کی بے قدری کی دلیل۔ بہت سے لوگ خاموشی سے ایسے کام انجام دیتے ہیں جن کے اثرات دوسروں کی زندگیوں میں نمایاں ہوتے ہیں، لیکن ان کا نام کبھی کسی بڑے پلیٹ فارم پر نہیں آتا۔ اس کے برعکس بعض اوقات کسی کام کی تشہیر اس کی حقیقی افادیت سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس لیے کسی انسان کی قدر متعین کرتے وقت محض اس کی شہرت کے بجائے اس کے کردار، خدمات اور طرزِ عمل کو دیکھنا ضروری ہے۔ نیتوں کا حتمی علم بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
دینی نقطۂ نظر سے اس معاملے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اسلام انسان کو ظاہری نمود کے بجائے اخلاص، تقویٰ اور جواب دہی کا احساس پیدا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ
ترجمہ: ’’پس جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہ یقیناً کامیاب ہو گیا۔‘‘
(سورۃ آل عمران: 185)
یہ آیت کامیابی کے اس حقیقی معیار کی طرف متوجہ کرتی ہے جو دنیا کی عارضی پذیرائی سے بلند ہے۔ دنیا میں عزت، منصب، شہرت اور مقبولیت حاصل ہونا اپنی جگہ، لیکن ان میں سے کوئی چیز بذاتِ خود آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان نے اپنی زندگی کن اصولوں کے مطابق گزاری، اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کیا اور اپنے اعمال کی اصلاح کے لیے کتنی سنجیدہ کوشش کی۔
رضائے الٰہی کی جستجو کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان دنیاوی ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہو جائے یا اپنی صلاحیتوں کو نمایاں کرنے سے گریز کرے۔
معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا، لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنا، اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرنا اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ایک بامقصد زندگی کے اہم پہلو ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کاموں کی بنیاد اخلاص اور اصولوں پر ہو، نہ کہ محض ذاتی تشہیر اور پذیرائی کی خواہش پر۔ انسان کی اصل آزمائش اکثر اسی وقت ہوتی ہے جب اسے اپنے مفاد اور اپنے اصولوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دینا پڑے۔
یہ فرق اجتماعی اور تنظیمی زندگی میں بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جب کسی ادارے یا جماعت میں کام کی افادیت سے زیادہ افراد کی تشہیر اہم ہو جائے تو اجتماعی مقصد متاثر ہونے لگتا ہے۔ محنت کرنے والوں کی خدمات پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور توجہ اس بات پر مرکوز ہونے لگتی ہے کہ کس کا نام نمایاں ہوا اور کس کو زیادہ پذیرائی ملی۔ ایسے ماحول میں خدمت کا جذبہ کمزور اور ذاتی نمود کی خواہش مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس کا نقصان صرف افراد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پورا ادارہ اپنی صلاحیتوں اور اجتماعی قوت سے محروم ہونے لگتا ہے۔
ایک سنجیدہ اور بااصول انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کامیابی کے ساتھ دوسروں کی کامیابی کو بھی اہمیت دے، اجتماعی کام میں ہر فرد کی محنت کا اعتراف کرے اور اپنی خدمات کو دوسروں کی خدمات سے برتر ثابت کرنے کے بجائے مقصد کی تکمیل پر توجہ دے۔ کسی اجتماعی کوشش کی اصل کامیابی کسی ایک شخصیت کی نمایاں حیثیت نہیں، بلکہ اس مقصد کا حصول ہے جس کے لیے سب مل کر کام کر رہے ہوں۔ جو شخص اجتماعی کامیابی کو اپنی ذات تک محدود کر لیتا ہے، وہ دراصل اس مقصد کی وسعت کو کم کر دیتا ہے جس کے لیے دوسرے لوگ بھی اپنا وقت اور صلاحیتیں صرف کر رہے ہوتے ہیں۔
اسی طرح تعریف اور تنقید کے معاملے میں بھی اعتدال ضروری ہے۔ ہر تعریف حقیقت کی مکمل ترجمان نہیں ہوتی اور ہر تنقید غلط نہیں ہوتی۔ سمجھ دار انسان تعریف سے مغرور نہیں ہوتا اور تنقید سے بددل ہو کر اپنی اصلاح کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ وہ اپنی غلطی سامنے آنے پر اسے تسلیم کرتا ہے اور درست بات کو محض اس لیے رد نہیں کرتا کہ وہ اس کی پسند کے مطابق نہیں۔ اس کے نزدیک اپنی اصلاح، اپنی شخصیت کے دفاع سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔
زندگی کی ایک بنیادی حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کی رائے ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ وقت کے ساتھ عہدے بدل جاتے ہیں، شہرت کم ہو جاتی ہے اور بہت سے نام لوگوں کی یادداشت سے محو ہو جاتے ہیں۔ انسان کے اختیار میں اپنی نیت، اپنی کوشش اور اپنا کردار ہے، لیکن یہ اس کے اختیار میں نہیں کہ دنیا ہمیشہ اسے ایک ہی نظر سے دیکھے۔ اس لیے اپنی پوری زندگی دوسروں کی نظروں میں مقام بنانے کی فکر میں گزار دینا دانش مندی نہیں۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ انسان اپنے وقت اور صلاحیتوں کو ایسے کاموں میں صرف کرے جو اس کے لیے، اس کے معاشرے کے لیے اور اس کی آخرت کے لیے بھلائی کا ذریعہ بن سکیں۔
یہاں ایک سوال ہر انسان کو اپنے آپ سے ضرور کرنا چاہیے کیا وہ اس وقت بھی درست کام کرنے کے لیے تیار ہے جب اسے کوئی دیکھنے والا نہ ہو؟ کیا وہ کسی دوسرے کی کامیابی کو بھی اسی خوش دلی سے تسلیم کرتا ہے جس کی توقع اپنی کامیابی کے لیے رکھتا ہے؟ کیا وہ اصولوں پر اس وقت بھی قائم رہتا ہے جب اس کے نتیجے میں اسے فوری پذیرائی حاصل نہ ہو؟ یہ سوالات کسی دوسرے پر حکم لگانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اصلاح اور خود احتسابی کے لیے ہیں۔
مقبولیت انسان کو لوگوں میں پہچان دے سکتی ہے، لیکن رضائے الٰہی کی جستجو انسان کو اپنی زندگی کے اصل مقصد کی یاد دلاتی رہتی ہے۔ شہرت اگر حقیقی خدمت اور مفید کردار کا نتیجہ ہو تو وہ معاشرے کے لیے مثبت اثرات کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن جب شہرت ہی مقصد بن جائے تو انسان بسا اوقات ان اصولوں کو نظرانداز کرنے لگتا ہے جن کی حفاظت اس کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی کامیابی کا جائزہ صرف اس بنیاد پر نہ لیں کہ کتنے لوگ ہمیں جانتے ہیں یا کتنی محفلوں میں ہمارا ذکر ہوتا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ ہماری موجودگی سے دوسروں کو کیا فائدہ پہنچا، ہم نے اپنی ذمہ داریاں کس دیانت داری سے ادا کیں اور اپنے کردار کو بہتر بنانے کے لیے کیا کوشش کی۔ لوگوں کی تعریف ملے تو اسے اپنی برتری کی دلیل سمجھنے کے بجائے شکر کا موقع جانیں، اور اگر تعریف نہ ملے تو محض اس وجہ سے کسی درست اور مفید کام کو ترک نہ کریں۔
آخرکار، انسان کی زندگی کا مقصد محض لوگوں کی نظروں میں مقام حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنے کردار، عمل اور نیت کو درست رکھنا ہے۔ دنیا کی مقبولیت عارضی ہو سکتی ہے، لیکن اخلاص کے ساتھ کیا گیا نیک عمل انسان کی زندگی کو حقیقی معنویت عطا کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں دوسروں کی نگاہوں میں بلند دکھائی دینے سے زیادہ اپنے کردار کو بہتر بنانے اور اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے ادا کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نیتوں کی اصلاح کرنے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے، لوگوں کے حقوق ادا کرنے اور اپنی زندگی کو اپنی رضا کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔