صرف بیانات سے کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں ۔ مظلوم عوامی تحریک

کوئٹہ(پ ر) مظلوم عوامی تحریک پاکستان کے صوبائی صدر اسلم اچکزئی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کہتے ہیں کہ صوبے میں سرکاری نوکریاں نہیں بکتیں، تو بلوچستان کی بیوروکریسی بھی حلف اٹھا کر عوام کو یقین دلائے کہ سرکاری ملازمتوں میں کسی قسم کی خرید و فروخت اور بدعنوانی نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ آخر کب تک ایسے دعوؤں اور نعروں کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی؟ اگر حکومت کا مؤقف درست ہے تو اسے عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا۔ محض بیانات دینے سے نہ کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے اور نہ ہی عوام کے تحفظات دور کیے جاسکتے ہیں۔اسلم اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان میں کرپشن اور بدعنوانی کے حوالے سے عوامی شکایات اور تحفظات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ترقی کھوکھلے دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی کام، شفاف حکمرانی اور مؤثر اقدامات سے ممکن ہوتی ہے۔ آج ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ تعلیمی قابلیت رکھنے والے نوجوان بھی ملازمتوں کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جو صوبے کے تعلیمی اور انتظامی نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی بیوروکریسی کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کو یقینی بنائیں، بھرتیوں کے تمام مراحل شفاف بنائیں اور بے روزگار نوجوانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ اگر حکومت واقعی کرپشن کے خاتمے اور میرٹ کی بالادستی کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کرنا ہوگا۔اسلم اچکزئی نے مزید کہا کہ جب تک وزیراعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ حکام نوکریوں میں مبینہ خرید و فروخت، اقربا پروری اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات نہیں کرتے، اس وقت تک محض بلند بانگ دعوے عوام کے اعتماد کو بحال نہیں کرسکتے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو کھوکھلے نعروں کی نہیں بلکہ میرٹ، انصاف اور باعزت روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں