میونسپل کمیٹی وندر کی جانب سے کام چھوڑ تاکہ بندی ہڑتال،وندر شہر کچرہ کنڈی بن گیا

سونمیانی وندر(رپورٹ زبیر بلوچ)وندر شہر کچرہ کنڈی بن گیا۔ بدبو اور تعفن سے موذی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ گلی محلوں ، بازاروں اور سڑکوں کے کناروں پر جگہ جگہ کچرے کے انبار لگ گئے۔ آل بلوچستان لوکل کونسل فورم کی احتجاجی کال کے تحت میونسپل کمیٹی وندر کی جانب سے کام چھوڑ تاکہ بندی ہڑتال جاری ہے جس کی وجہ سے وندر شہر میں 18 روز سے صفائی نہ ہونے کے باعث سڑتے ہوئے کچرے سے اٹھنے والے تعفن نے شہریوں کا جینا محال کردیا۔ جس کے باعث شہر میں صفائی کا عمل مکمل طور پر رک گیا ہے اور گھروں و دکانوں سے نکلنے والا کچرا مختلف مقامات پر جمع ہوتا جارہا ہے۔ کچرے کے ڈھیروں سے اٹھنے والی بدبو اور تعفن نے ماحول کو انتہائی ناگوار بنا دیا ہے جبکہ مکھیوں ، مچھروں اور آوارہ جانوروں کی بہتات نے بھی شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ رہائشی علاقوں میں کچرے کے ڈھیر بچوں ، خواتین اور بزرگوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں جبکہ شہریوں کو خدشہ ہے کہ اگر صفائی کا سلسلہ مزید کئی روز تک معطل رہا تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ لوکل کونسل ملازمین کے مطالبات اپنی جگہ صفائی جیسی بنیادی شہری سہولت کی مسلسل بندش سے عام عوام متاثر ہورہے ہیں۔ اس لیے متعلقہ حکام کو احتجاجی معاملے کا فوری حل نکالنے کے ساتھ ساتھ شہر میں صفائی کے لیے ہنگامی متبادل انتظامات بھی کرنے چاہئیں۔ واضح رہے کہ وندر شہر پہلے ہی مختلف مسائل سے دوچار ہے اور اب کچرے کے ڈھیروں اور تعفن نے صورتحال مزید خراب کردی ہے۔ اگر فوری طور پر صفائی کا عمل شروع نہ کیا گیا تو گندگی کے باعث مکھیوں اور مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوسکتا ہے اور شہریوں کو صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آل بلوچستان لوکل کونسل فورم کی احتجاجی کال کے نتیجے میں جاری ہڑتال کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے جلد حل کیا جائے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہوتا شہر میں عارضی طور پر صفائی کا متبادل بندوبست کرکے گلی محلوں ، بازاروں اور شاہراہوں سے کچرے کے ڈھیر اٹھائے جائیں تاکہ شہریوں کو گندگی تعفن اور ممکنہ بیماریوں کے خطرے سے محفوظ رکھا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں