“اٹھارویں آئینی ترمیم: وفاقیت، جمہوریت اور آئینی حقوق کا استحکام”

تحریر: ساروان ناصر
ترمیم سے مراد کسی تحریر، قانون، معاہدے یا آئین میں باقاعدہ تبدیلی، اضافہ یا اصلاح کرنا ہے۔ اس کا مقصد پورے دستاویز کو دوبارہ لکھے بغیر اسے بہتر یا جدید بنانا ہوتا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم 1973 کے آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کی گئی۔ اس کا مقصد ایک ایسے وفاقی، اسلامی، جمہوری، پارلیمانی، جدید اور ترقی پسند فلاحی ریاست کے قیام کے اصولوں کو عملی شکل دینا تھا، جہاں شہریوں کے حقوق محفوظ ہوں اور صوبوں کو وفاق میں مناسب اور منصفانہ حصہ مل سکیں۔ 18ویں ترمیم کا سرکاری نام “آئینی(اٹھارویں ترمیم) ایکٹ، 2010” ہے۔ اسے پاکستان کی قومی اسمبلی نے 8 اپریل 2010 کو منظور کیا اور 19 اپریل 2010 کو صدرِ پاکستان کے دستخط کے بعد یہ قانون بن گیا۔ 18ویں ترمیم تیار کرنے والوں نے ایسی اصلاحات کو ترجیح دی جن سے سیاسی نظام میں شفافیت بڑھے، کسی فرد واحد کے اختیارات کم ہوں، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں مضبوط ہوں، صوبوں کو زیادہ خودمختاری ملے، عدلیہ آزاد ہو، بنیادی حقوق میں اضافہ ہو اور بہترین طرزِ حکمرانی کو فروغ ملے۔
ڈاکٹر عمران احمد، جو سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی (NUS) کے انسٹی ٹیوٹ آف ساو¿تھ ایشین اسٹڈیز (ISAS) سے وابستہ مشیر ہیں، نے اپنے 4 ستمبر 2020 کو شائع ہونے والے تحقیقی مقالے میں لکھا ہے کہ 20 ستمبر 2008 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر آصف علی زرداری نے 17ویں آئینی ترمیم اور آئین کے آرٹیکل 58(2)(b) کا دوبارہ جائزہ لینے کےلئے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل کمیٹی بنانے کی تجویز دی۔ اس مقصد کےلئے 27 رکنی پارلیمانی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات قائم کی گئی۔ اس کمیٹی کا مقصد آئین سے آمریت کے اثرات ختم کرنا اور ملک کو ایک مضبوط، مستحکم اور باہمی اتفاقِ رائے پر مبنی آئینی نظام کی طرف واپس لے جانا تھا۔ کمیٹی نے ایسی اصلاحات پر توجہ دی جن سے سیاسی نظام میں شفافیت بہتر ہو ، کسی ایک فرد کے اختیارات اور من مانی کم ہو ،پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں مضبوط ہوں ، صوبوں کو زیادہ خودمختاری حاصل ہو ، عدلیہ کی آزادی یقینی بنے ، بنیادی حقوق مضبوط ہوں ، بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ ملے۔ کمیٹی نے 77 اجلاس کیے اور آئین کے تمام 280 آرٹیکلز کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔مجموعی طور پر آئین کے 102 آرٹیکلز میں ترمیم، اضافہ، تبدیلی یا حذف کیے گئے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں آئینی اصلاحات کی ایک بہت بڑی مثال تھی۔ 18ویں ترمیم صرف اس لیے اہم نہیں تھی کہ اس میں آئین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں، بلکہ اس لیے بھی اہم تھی کہ تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اس عمل میں تعاون کیا۔ اس کا مقصد پاکستان کو ایک مضبوط وفاقی اور پارلیمانی نظامِ حکومت کی طرف لے جانا تھا۔
18ویں ترمیم میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئیں، ان میں سے کچھ یوں ھیں ؛ صدرِ پاکستان کا آرٹیکل 58(2)(b) کے تحت قومی اسمبلی کو اپنی مرضی سے تحلیل کرنے کا اختیار ختم کر دیا گیا۔ وزیراعظم کو ملک کی اعلیٰ انتظامی اتھارٹی بنایا گیا۔ صوبوں کو انتظامی، قانون سازی اور مالی معاملات میں زیادہ خودمختاری دی گئی۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ (NWFP) کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا۔ بچوں کے لیے 5 سے 16 سال کی عمر تک مفت اور لازمی تعلیم کا حق آئین میں شامل کیا گیا، جسے آرٹیکل 25-A میں شامل کیا گیا۔ منصفانہ ٹرائل کا حق آئین میں شامل کیا گیا، جو آرٹیکل 10-A میں موجود ہے۔ شہریوں کے لیے معلومات تک رسائی کا حق شامل کیا گیا، جو آرٹیکل 19-A میں دیا گیا ہے۔ آئین کو ختم، معطل یا غیر مو¿ثر کرنے والے شخص کو سنگین غداری کا مجرم قرار دیا گیا۔
جنرل پرویز مشرف کے دور کی 17ویں آئینی ترمیم اور لیگل فریم ورک آرڈر (LFO) کو ختم کر دیا گیا ، کونسل آف کامن انٹرسٹس (CCI) کو دوبارہ منظم کیا گیا اور وزیراعظم کو اس کا چیئرمین بنایا گیا۔ یہ طے کیا گیا کہ CCI کا اجلاس کم از کم ہر 90 دن میں ایک بار ہونا چاہیے۔ نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ کے نظام میں تبدیلیاں کی گئیں۔ آعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تقرری کے لیے ایک آزاد عدالتی کمیشن کا نظام بنایا گیا، جبکہ حتمی نام پارلیمانی کمیشن کے ذریعے طے کیے جانے کا طریقہ متعارف کرایا گیا۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام برائے پاکستان (UNDP-Pakistan) کی دسمبر 2012 میں شائع ہونے والی رپورٹ، جس کا عنوان “وفاقیت اور اٹھارویں آئینی ترمیم — پاکستان میں منتقلی کے انتظام کے چیلنجز اور مواقع” ھے، میں 18ویں ترمیم پر عمل درآمد کے حوالے سے بعض مشکلات کی نشاندہی کی گئی ھے۔ رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والی ایک ملاقات میں ایک شخص نے رائے دی کہ اتنی بڑی آئینی ترمیم پر عمل درآمد کے لیے ایک مضبوط اور جامع منصوبے کی ضرورت تھی۔ اگرچہ عمل درآمد کروانے والی کمیشن نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے کافی محنت کی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس عمل کی رفتار کچھ کم ہوگئی۔ پشاور میں ہونے والی مشاورت کے دوران ایک شریک نے کہا کہ اس معاملے میں سیاسی سنجیدگی کی ضرورت ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں زیادہ محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ھے۔ عمل درآمد کے مختلف معاملات وفاقی وزراءکی تین اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے سپرد کیے گئے، لیکن ان کمیٹیوں کی عوام کو معلومات فراہم کرنے اور رابطے کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں تھی۔ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے بعض مسائل بھی سامنے آئے۔ ناقدین کے مطابق کچھ شعبوں میں اختیارات تو صوبوں کو منتقل کیے گئے، لیکن ان سے متعلق تمام ادارے صوبوں کے حوالے نہیں کیے گئے۔ مثال کے طور پر: ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) ، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور زکوٰة فنڈ وغیرہ۔ یہ ایسے اہم اداروں میں شامل ہیں جن کی صوبوں کو مکمل منتقلی کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے۔
مذکورہ رپورٹ کے مطابق 7واں نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ دسمبر 2009 میں منظور ہوا۔ اس کے نتیجے میں وفاق کی طرف سے صوبوں کو دی جانے والی رقم میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا۔ لیکن ایک اہم مسئلہ یہ تھا کہ این ایف سی ایوارڈ 18ویں ترمیم سے پہلے طے کیا گیا تھا۔ اس لیے اس میں ان اضافی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا جو 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہوئیں۔ اسی وجہ سے یہ تنقید سامنے آئی کہ صوبوں کو ذمہ داریاں تو منتقل کی گئیں لیکن ان کے ساتھ مطلوبہ مالی وسائل مکمل طور پر منتقل نہیں کیے گئے۔ تیل، گیس اور دیگر معدنی وسائل اب وفاقی حکومت اور متعلقہ صوبوں کی مشترکہ ملکیت اور انتظام کے تحت ہیں۔ اس طرح صوبوں کو آمدنی کے اضافی ذرائع حاصل ہوئے ، تاہم وفاقی حکومت پر یہ تنقید بھی ہوئی کہ وہ ان نئے آئینی اصولوں پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کر رہی۔
جون 2023 میں جنرل آف ڈیویلپمنٹ اینڈ سوشل سائنسز (JDSS) میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے “اٹھارہویں آئینی ترمیم — پاکستان کی بطور وفاقی ریاست بحالی” میں طیبہ انور، مریم علی اور ڈاکٹر انسائ جمشید نے 18ویں ترمیم کے مستقبل اور اس کے اثرات پر بحث کی ہے۔ محققین کے مطابق ، 18ویں ترمیم کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ صوبائی حکومتیں عوام کو کتنی بہتر خدمات اور اچھی حکمرانی فراہم کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے اس شعبے میں کارکردگی ابھی بہت اچھی نہیں ہے۔ ان کے مطابق 18ویں ترمیم کو بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس لیے حکومت کو اسے ختم یا کمزور کرنے کی تجاویز دینے کے بجائے اس پر مکمل اور مو¿ثر عمل درآمد پر توجہ دینی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اداروں میں اصلاحات کرے اور 18ویں ترمیم کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرے۔ اگر اس ترمیم پر صحیح معنوں میں عمل کیا جائے تو اس سے ملکی اداروں کی تنظیمِ نو اور جدید بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ کسی بھی حکومتی پالیسی، چاہے وہ معیشت سے متعلق ہو یا کسی دوسرے شعبے سے، اس کی طویل مدتی کامیابی مضبوط اور مستحکم اداروں سے وابستہ ہوتی ہے۔ 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات کی صوبوں کو منتقلی صوبائی خودمختاری کی ایک اچھی مثال بن سکتی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر صوبوں کو زیادہ ذمہ داریاں تو دی جائیں لیکن ان کے ساتھ مناسب مالی وسائل نہ دیے جائیں تو صرف ذمہ داریاں بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے اس سے صوبوں کے پہلے ہی دباو¿ کا شکار ترقیاتی بجٹ پر مزید بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اس لیے معاشی وسائل کی تقسیم کے معاملے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان واضح، شفاف اور متوازن مالی نظام ہونا ضروری ہے۔ وفاق اور صوبوں کو مل کر یہ یقینی بنانا چاہیے کہ جو ذمہ داری کسی حکومت کو دی جائے، اسے پورا کرنے کے لیے مناسب مالی وسائل بھی فراہم کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں