پمز اسپتال کے اندر موجود بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، اور دیکھتے ہی دیکھتے چودہ معصوم کلیاں جلے ہوئے لوتھڑوں میں تبدیل ہو گئیں۔ یہ ایک ایسا حادثہ ہے جس کے رونما ہونے پر پوری قوم پر سکتہ طاری ہو جانا چاہئیے تھا، لیکن اب قومی بے حسی کا یہی رویہ نظر آنے لگا ہے کہ ایک یا دو دن غم پر شور مچا کر قوم یہ واقعات حرف غلط کی طرح مٹا کر بھول جاتی ہے۔ اب کی صورتحال بھی مختلف نظر نہیں آتی؛ اب ان بچوں کے لواحقین اور حکومت کے درمیان چند دن گفت و شنید رہے گی۔ اس کے بعد کچھ دن میں یہ واقعہ بھی پچھلے واقعات کی طرح وقت کی گرد میں بھلا دیا جائے گا۔
~ یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا
ہمیشہ کی طرح تحقیقات کے نام پر ایک کمیٹی تشکیل دے دی جائے گی۔ کمیٹی اپنے ٹی اے/ڈی اے کے بل بنا کر ایک رپورٹ مرتب کر دے گی۔ ایک ایسی رپورٹ جس میں کچھ دن گزرنے کے بعد نہ عوام کی دلچسپی باقی رہ جائے گی، اور نہ ہی حکومت کو کوئی دلچسپی ہو گی کہ قصور وار کو سزا مل سکے۔ پچھلی کئی رپورٹوں کی طرح یہ رپورٹ بھی داخل دفتر ہو کر سکون کی نیند سو جائے گی۔ والدین کے لئے رٹے رٹائے چند جملے موجود ہیں جن کی بنیاد پر تسلی دے دی جائے گی؛ “جو اللہ کو منظور، صبر کیجئے”۔ کیا مہذب معاشروں میں ایسے حادثات پر یوں مجرمانہ خاموشی قابل برداشت ہو سکتی ہے؟ کیا اتنے بڑے حادثے کے محرکات چھپائے جا سکتے ہیں؟ غفلت ہے یا مجرمانہ لاپرواہی اس کا حساب کون لے گا۔ ان والدین سے جا کر پوچھئے جن کے لخت جگر یوں سوختہ حالت میں ان کے حوالے کئے جائیں گے۔ کیا ان کے دل سے دعائیں نکلیں گی؟ کیا ان آہوں سے عرش نہیں کانپ جائے گا؟ ایسے حادثات پر مجرمانہ خاموشی کی سزا پھر صرف فرد واحد کو نہیں ملتی؛ بلکہ پورے معاشرے پر بانٹ دی جاتی ہے۔ جس کا مشاہدہ اب ہم روز مرہ کی زندگی میں اپنے ارد گرد کر رہے ہیں۔ معاشرے میں بگاڑ ہی بگاڑ بڑھتا جا رہا ہے۔
~ اب کوئی جنگل کا یاں قانون نافذ ہو گیا
دندناتے مجرموں نے یہ بتایا ہے ہمیں
سزاو¿ں کا تصور معاشرے میں تقریباً مفقود ہو چکا ہے۔ مجرم نڈر ہو چکے ہیں۔ ہر بڑا حادثہ چند دن میں جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ ملزمان یوں ہی دندناتے پھرتے رہتے ہیں۔ بحالت مجبوری مظلوم اپنے کیس اللہ کی عدالت میں لگا کر، چپ کا زہر حلق سے اتارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
معاشرہ جب بگاڑ کی صورت اختیار کر لیتا ہے تو روز نت نئے واقعات سامنے آنے لگتے ہیں۔ جن کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ چند دن پہلے ہری پور میں ایک بچی آیت نور کے ساتھ پیش آیا۔ اس واقعہ پر بھی ہر آنکھ اشکبار ہے۔ مجرم گرفتار ہو چکے ہیں۔ ان مجرموں کو دیکھنے پر اندازہ ہو رہا ہے کہ آخر یہ نوجوان نسل کس طرف جا رہی ہے۔ یہ دس سال سے اٹھارہ سال تک کے چار مجرم ہیں۔ کیا ہمارا معاشرہ اپنے ہاتھوں خودکشی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے؟ والدین اپنی ذمہ داری صرف بہت سارا پیسہ کمانا سمجھ کر بچوں کی اخلاقی تربیت کرنا بھول چکے ہیں۔ اس دور کی ترقی میں کیا والدین پر فرض نہیں کہ وہ بچوں کی روز مرہ حرکات پر نظر رکھیں۔ کہا جاتا تھا کہ بچوں کی تربیت ایسی کرو کہ کھلاو¿ سونے کا نوالہ مگر ان پر نظر شیر کی رکھو۔ اب یہ ضروری ہے کہ ان کے دوستوں پر، ان کی مشغولیت پر، ان کی آن لائن دلچسپیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ اب جو حالات سامنے آ رہے ہیں اس کے بعد والدین اور اساتذہ کرام کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ ان کو اخلاقیات کا وہ اہم درس جو دنیا کمانے میں لوگ بھول چکے ہیں؛ دوبارہ سے ازبر کروانا ضروری ہو گیا ہے۔ آج نہیں تو کبھی نہیں پر عمل کر کے اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
حادثات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایک طرف انسانی غفلت ہے، یا پھر انسانی اخلاقی زوال حادثات کا سبب ہیں، تو دوسری طرف قدرتی آفات بھی اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ نیپال، تبت کی سرحد پر آئے طوفانی سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ یہ حادثے صرف وقتی نقصان نہیں ہوتے؛ بلکہ یہ نقصان پھر سالوں کی محنت کو لمحوں میں ختم کر دیتے ہیں۔ نیپال میں سارا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ لوگوں کی محنت سے بنائے گئے گھر، فیکٹریاں اور مستقبل کے خواب اس پانی کے ساتھ بہہ رہے ہیں۔ جانی نقصان کے ساتھ ساتھ معاشی نقصان بھی ہو رہا ہے۔ جس کی بھرپائی میں پھر سالوں کی محنت کی ضرورت ہو گی۔ فی الحال تو ہنگامی بنیادوں پر دنیا سے امداد طلب کرنے کی اپیلیں سنائی دے رہی ہیں۔ ساتھ ہی مزید بارشوں کی وارننگ بھی جاری ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر فلاحی تنظیمیں امداد کے لئے کمر بستہ ہو چکی ہیں، مزید نقصانات سے بچاو¿ کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
دنیا میں اب روز حادثات کی خبریں مل رہی ہیں اور خوشی کی خبریں جیسے روٹھ سی گئی ہیں۔ دعا گو ہیں کہ انسان اپنی غلطیوں سے سبق سیکھے گا تاکہ قدرت کی ناراضگی دور ہو اور دور امن کی شروعات ہو۔
دنیا حادثات کی زد میں