
تحریر:۔ذوالفقار علی طارقی قادری
پاکستان میں ٹیکس اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور محصولات میں اضافے کی بحث کوئی نئی نہیں، لیکن مالی سال 26-2025ءکے اختتام پر سامنے آنے والے اعداد و شمار نے ایک مرتبہ پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کردیا ہے کہ آخر ریاستی مالیات کا اصل بوجھ کون اٹھا رہا ہے؟ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی عبوری رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 13 ہزار 10 ارب روپے محصولات جمع کیے گئے، مگر ان اعداد و شمار کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ تنخواہ دار طبقے نے اکیلے 633 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو ملک کے کئی بااثر اور منظم معاشی شعبوں کی مشترکہ ادائیگیوں سے بھی زیادہ ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف پاکستان کے ٹیکس ڈھانچے کی نوعیت کو واضح کرتی ہے بلکہ اس نظام میں موجود ساختی عدم توازن کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔
تنخواہ دار طبقہ پاکستان میں ہمیشہ سے ٹیکس وصولی کا سب سے آسان اور قابلِ اعتماد ذریعہ رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس طبقے کی آمدن مکمل طور پر دستاویزی ہوتی ہے اور اس پر ٹیکس براہِ راست منبع پر کاٹ لیا جاتا ہے۔ چنانچہ ٹیکس بچانے، آمدن چھپانے یا گوشواروں میں ردوبدل کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ مالی سال میں اس طبقے کی جانب سے ادا کردہ 633 ارب روپے قومی محصولات میں ایک نمایاں حصہ بن کر سامنے آئے۔ حیرت انگیز طور پر یہ رقم برآمد کنندگان کے 174 ارب روپے، ریٹیل سیکٹر کے 70 ارب روپے اور رئیل اسٹیٹ کے کئی اہم زمروں کی ادائیگیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ پاکستان کا ٹیکس نظام اب بھی ا±ن طبقات پر زیادہ انحصار کرتا ہے جن سے وصولی نسبتاً آسان ہے۔
دوسری جانب برآمدی شعبہ جسے ملکی معیشت کی شہ رگ قرار دیا جاتا ہے،گزشتہ دو برسوں سے تقریباً یکساں ٹیکس ادا کررہا ہے۔ مالی سال 26-2025ء میں برآمد کنندگان نے 174 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جبکہ اس سے قبل یہ رقم 176 ارب روپے تھی۔ بظاہر یہ استحکام دکھائی دیتا ہے، لیکن معاشی ماہرین کے نزدیک یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ملکی برآمدات اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کی حقیقی تصویر ٹیکس اعداد و شمار میں پوری طرح جھلکتی ہے؟ پاکستان میں برآمدی شعبے کو مختلف ادوار میں خصوصی مراعات، ٹیکس کی رعایتی شرح اور مالی سہولتیں فراہم کی جاتی رہی ہیں تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہیں، تاہم اس کے باوجود برآمدی کارکردگی اور ٹیکس شراکت کے درمیان مطلوبہ توازن اب بھی بحث کا موضوع ہے۔
رئیل اسٹیٹ کا شعبہ بھی پاکستان کی معیشت میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طرف اسے سرمایہ کاری، تعمیرات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والا اہم شعبہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف یہی شعبہ اکثر غیر دستاویزی سرمایہ کاری اور غیر پیداواری اثاثہ جاتی سرگرمیوں کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرتا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں جائداد فروخت کرنے والوں سے191 ارب روپے اور خریداروں سے87 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ اگرچہ فروخت کنندگان سے حاصل ہونے والی رقم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن ماہرین کے نزدیک رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی مجموعی معاشی سرگرمیوں اور اس کے ٹیکس تعاون کے درمیان اب بھی ایک واضح خلا موجود ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں جائداد سے حاصل ہونے والے منافع، سرمایہ جاتی فوائد اور غیر استعمال شدہ اثاثوں پر نسبتاً سخت ٹیکس نظام نافذ ہے، جبکہ پاکستان میں اس شعبے کی مکمل دستاویز بندی کا عمل ابھی تک جاری ہے۔
اسی طرح ریٹیل سیکٹر جو ملک کی اقتصادی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ تصور کیا جاتا ہے، محصولات میں اپنی حقیقی استعداد کے مطابق کردار ادا کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ لاکھوں دکانوں، تجارتی مراکز اور کاروباری اداروں پر مشتمل اس شعبے نے مالی سال 26-2025ءمیں مختلف ودہولڈنگ ٹیکسوں کی مد میں تقریباً 70 ارب روپے جمع کرائے۔ اگرچہ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہیں، لیکن ملک کی مجموعی تجارتی سرگرمیوں کے حجم کو سامنے رکھا جائے تو یہ رقم نسبتاً کم محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین مسلسل اس امر پر زور دیتے رہے ہیں کہ ریٹیل سیکٹر کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور دستاویز بندی کے بغیر پاکستان میں ٹیکس بیس کو موثر انداز میں وسعت دینا ممکن نہیں۔
ان تمام اعداد و شمار کے درمیان سب سے اہم سوال ٹیکس انصاف کا ہے۔ جدید معاشیات میں ٹیکس نظام کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ حکومت کتنی رقم جمع کرنے میں کامیاب ہوئی، بلکہ اس بات سے بھی جانچی جاتی ہے کہ یہ بوجھ مختلف طبقات کے درمیان کس حد تک منصفانہ انداز میں تقسیم ہوا۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ زیادہ مالی استطاعت رکھنے والے طبقات زیادہ حصہ ادا کریں اور معاشی سرگرمیوں کے تمام شعبے اپنی حقیقی آمدن کے مطابق قومی خزانے میں حصہ ڈالیں۔ پاکستان میں اس تصور کے برعکس تنخواہ دار طبقہ مسلسل ایک ایسے طبقے کے طور پر سامنے آرہا ہے جو اپنی آمدن کے تناسب سے سب سے زیادہ شفاف اور قابلِ پیمائش ٹیکس ادا کررہا ہے۔
حکومت نے نئے مالی سال کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کا بلند ترین ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ہدف حاصل کرنا ایف بی آر کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا، خصوصاً ایسے وقت میں جب تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کو جزوی ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے صرف موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنا نہ تو معاشی طور پر قابلِ عمل ہوگا اور نہ ہی سیاسی طور پر پائیدار۔ اس کےلیے ضروری ہوگا کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے، غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنایا جائے، جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جائیں اور ا±ن شعبوں تک رسائی حاصل کی جائے جو اب تک موثر ٹیکس دائرے سے باہر ہیں۔
اسی تناظر میں ایف بی آر نے ایک نئے آپریٹنگ ماڈل کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم یا ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور خودکار نگرانی کے نظام کو استعمال کرتے ہوئے ٹیکس انتظامیہ کو زیادہ شفاف اور مو?ثر بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اگر یہ اصلاحات کامیابی سے نافذ ہوجاتی ہیں تو پاکستان میں ٹیکس وصولی کے نظام میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے، جو نہ صرف محصولات میں اضافے کا باعث بنے گی بلکہ ٹیکس دہندگان کے اعتماد میں بھی اضافہ کرےگی مالی سال 26-2025ءکے اعداد و شمار دراصل ایک بڑی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں، پاکستان کی مالیاتی بنیاد آج بھی بڑی حد تک ا±ن لوگوں پر قائم ہے جن کی آمدن مکمل طور پر ریکارڈ میں موجود ہے اور جن کے لیے ٹیکس کی ادائیگی سے گریز تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن ایک پائیدار اور منصفانہ معیشت ا±سی وقت تشکیل پا سکتی ہے جب ٹیکس کا بوجھ تمام معاشی طبقات اور شعبوں میں متوازن انداز سے تقسیم ہو۔ ریاست کےلئے اصل چیلنج صرف محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ ایسا ٹیکس نظام قائم کرنا ہے جو انصاف، شفافیت اور مساوی شراکت کے اصولوں پر استوار ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مالی استحکام، معاشی ترقی، ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے نئے راستے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
٭٭٭٭
تنظیمیں بڑھ رہی ہیں،تربیت گھٹ رہی ہے