ماہ آزادی کا آغاز ہو گیا ہے۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے چند دن میں 79 سال مکمل ہو جائیں گے۔ ہر سال 14 اگست پر کیا ہمارا یہ شعار نہیں ہونا چاہیے، کہ ہم اپنی گزشتہ کارکردگی پر باریک بینی سے نظر دوڑائیں۔ یہ تجزیہ کریں کہ اتنے سال گزرنے کے بعد آزادی سے پہلے دیکھے گئے خواب کی تکمیل کرنے میں ہم کتنے کامیاب اور کتنے ناکام رہے ہیں۔ کامیابیوں کا جشن منا سکیں، اور ناکامیوں کی وجوہات پر غور کر کے اس کو بہتر بنانے کی تدابیر پر عمل درآمد شروع کر سکیں، تاکہ اگلے سال ہم فخر سے یہ کہہ سکیں کہ پچھلے سال کی نسبت اس سال ہم چند قدم آگے ہی آئے ہیں۔ پیچھے کی طرف نہیں گئے۔
اب ایک اہم سوال، کیا اس سال 14 اگست کے دن ہم اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں، کہ اتنے سالوں میں ہمارا سفر ترقی کی طرف ہی جاری ہے؟ کیا ہم اپنا تجزیہ کرنے کو تیار ہیں؟
پاکستان ان 79 سالوں میں جس سب سے بڑے مسئلے کا شکار رہا ہے، وہ ہے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی سطح کو بلند کرنا۔ ویسے تو یہ کام حکومت نے خط غربت کی سطح کو 8483 روپے مقرر کر کے غیر سنجیدگی سے کرنے کی کوشش تو کی ہے۔ سال 2019 میں پاکستان میں غربت کی شرح 21.90 فیصد تھی، جو 2026 میں بڑھ کر 28.90 فیصد ہو چکی ہے۔ انسانی ترقی کے عالمی انڈیکس HDI کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 193 ممالک کی فہرست میں 168ویں نمبر پر براجمان ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی %45 آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ مطلب پاکستان میں غریب امیر نہیں بن رہا، بلکہ امیر غریب کی فہرست میں شامل ہو رہا ہے۔ کیا اس الٹے گھومتے پہیہ کو تصور پاکستان کے خواب کی تعبیر تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ اس کے لئے حکومتی کاوشیں نیک نیتی سے عمل پذیر ہوتی کیوں نظر نہیں آ رہی ہیں؟
یہی حال پاکستان میں تعلیم کے شعبے کے ساتھ بھی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام اس وقت دنیا میں 136ویں نمبر پر ہے۔ یونیسکو کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکولوں میں نہیں جاتے۔ ان کی لکھنے پڑھنے کی عمر مزدوریاں کرتے گزر جاتی ہے۔ نائیجیریا کے بعد پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے، جہاں بچوں کی اتنی بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے۔ مناسب منصوبہ بندی سے یہی بچے پڑھ لکھ کر پاکستان کا مستقبل روشن رکھنے کی امید ہیں۔ ان کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
مرتب کردہ 2026 کی کم بدعنوان ممالک کی فہرست میں اس سال ہمارا نمبر 135 سے گر کر 136ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ کیا ہم اس کو ترقی کی طرف گامزن یا آگے کی طرف سفر کہہ کر مطمئن ہو سکتے ہیں؟ کیا ہمارے سرکاری اداروں میں سائلین کی داد رسی مکمل دیانت داری اور ایمانداری کے ساتھ بہم پہنچائی جا رہی ہے؟
ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی عدالتی نظام دنیا کے 143 ممالک کہ فہرست میں 130ویں نمبر پر موجود ہے۔ عدالتی نظام میں 130واں نمبر حاصل کر کے کیا ہم یہ فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ انصاف سب کو مکمل انصاف سے مل رہا ہے؟ اس کا جواب ہو گا۔ نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ سالہا سال عدالتوں سے انصاف کی امید رکھنے والوں کی بے بس و لاچار کہانیاں ہمارے نظام انصاف پر سیاہ دھبہ ضرور ہیں۔
اسی طرح ایک وقت تھا جب چند کھیلوں میں پاکستان کی بادشاہی تسلیم کی جاتی تھی۔ کھیلوں کے میدانوں میں سبز ہلالی پرچم اپنی بھرپور موجودگی کا احساس ضرور دلایا کرتا تھا۔ کیا اب بھی ویسی ہی صورتحال ہے؟ ہاکی جو ہمارا قومی کھیل ہے۔ اس میدان میں عرصہ ہوا ہم کسی میڈل کا منہ نہیں دیکھ سکے ہیں۔ اسکوائش میں کوئی قابل ذکر کھلاڑی موجودہ دور میں نظر نہیں آ رہا ہے۔ اسنوکر کے کھیل میں عرصہ دراز سے خوشخبری سننے کو نہیں مل رہی۔ باکسنگ تنزلی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ کرکٹ کے میدانوں سے آتی مسلسل شکست کہ خبریں، اب ہمیں اس میدان میں بھی کمزور ثابت کر رہی ہیں۔
ملک میں بدامنی اور دہشت گردی کا راج بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے جرائم کی متواتر بڑھتی خبریں، ہمارے محکمہ پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ پولیس کے جوانوں نے مختلف مواقع پر بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا ہے، لیکن حالات اب بھی ان سے مزید ایمانداری اور بہادری سے ان جرائم پر قابو پانے کی توقع کر رہے ہیں۔ ایک منظم حکمت عملی کے تحت تمام جرائم کا خاتمہ وقت کہ اہم ضرورت ہے۔ پر امن پاکستان ہی ترقی یافتہ پاکستان کہلا سکتا یے۔
یہ نہیں کہ ہر طرف سیاہ بادل ہی چھائے ہوئے ہیں۔ کچھ روشن چراغ بھی جگمگا رہے ہیں۔ پہلی اسلامی نیوکلیئر ریاست کا ہونا ہر پاکستانی کے لئے قابل فخر بات ہے۔ گزشتہ سال بھارتی جنگی جنون کا منہ توڑ جواب بھی پاکستان کے عزم و حوصلے کی سنہری داستان ہے۔ اسی طرح انفرادی کاوشوں سے ملک کا نام روشن کرنے والے پاکستانیوں کی کمی نہیں ہے، لیکن ہمیں اجتماعی طور پر ایک مضبوط، طاقتور اور ترقی یافتہ پاکستان دنیا کے نقشے پر دیکھنا ہے۔
موجودہ حالات میں ہر شعبے میں الٹا گھومتا یہ پہیہ اس بات کا متقاضی ہے، کہ تمام عوامل پر خوب غور و خوض کیا جانا چاہیے۔ جامع پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔ ایک ایسا نظام بنانا چاہیے، جس سے تمام شعبہ ہائے زندگی میں اصلاحات کی جا سکیں۔ تاکہ اگلے سال جب ہم اپنا تجزیہ کریں تو ہر شعبے میں ہمارے اعشاریے مثبت پیش قدمی ظاہر کر رہے ہوں۔ وگرنہ سال تو ہر سال آتا ہے، اور غفلت میں ڈوبی قوم کو جاگنے کی تنبیہ کر کے گزر جاتا ہے۔
٭٭٭٭٭
٭٭
ماہ آزادی کا آغاز اور چند سوالات