حق کہنا جرم نہیں، خاموش رہنا جرم ہے


تحریر۔ذوالفقار علی طارقی قادری
گزشتہ روز میرا پرانا ساتھی اور مختلف معاملات میں ساتھ رہنے والے ایک دوست کسی محفل میں مجھے کہنے لگے: حضرت صاحب آپ سے کچھ دیر علیحدگی میں ملاقات کرنی ہے۔ میں نے جناب سے عرض کیا کہ جیسے ہی فرصت ملتی ہے، ضرور آپ سے بات کرتے ہیں۔ محفل ختم ہونے کے بعد ہم ایک طرف بیٹھ گئے۔ شروع میں تو انہوں نے تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ کہنے لگے:حضرت صاحب! آپ کے کالم بہت اچھے ہوتے ہیں۔ آپ معاشرے کو سدھارنے، لوگوں کی اصلاح کرنے اور حق بات پہنچانے کے لیے بہترین انداز میں قلم اٹھاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت اچھا کام ہے، لیکن ایک بات ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اکثر اوقات آپ کے کالموں کو لوگ بغیر پڑھے ہی ڈائریکٹ ڈیلیٹ کر دیتے ہیں، بہت کم لوگ انہیں مکمل پڑھتے ہیں۔ پھر آپ اتنی محنت اور جدوجہد کیوں کرتے ہیں؟
ان کی یہ بات مجھے بری نہیں لگی بلکہ اچھی لگی، کیونکہ وہ بالکل بجا فرما رہے تھے۔ حقیقت یہی ہے کہ آج کا انسان گھنٹوں موبائل فون استعمال کر سکتا ہے، سوشل میڈیا پر وقت گزار سکتا ہے، لیکن اگر اسے قرآنِ مجید کی کوئی آیت، حدیثِ مبارکہ، اصلاحی مضمون یا معاشرے کی بہتری کے لیے لکھا گیا کالم بھیج دیا جائے تو اکثر لوگ اسے پڑھے بغیر آگے بڑھ جاتے ہیں یا حذف کر دیتے ہیں۔ یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر اس سے انکار بھی ممکن نہیں۔
میں نے اپنے دوست سے عرض کیا کہ دیکھیں! ہمارا کام اچھا لکھنا ہے، اچھائی کی دعوت دینا ہے، حق اور سچ کو لوگوں تک پہنچانا ہے۔ ہمارا کام یہ نہیں کہ کتنے لوگ عمل کر رہے ہیں اور کتنے نہیں کر رہے۔ ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ معاشرے تک صحیح بات پہنچائیں، لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی اصلاح کی کوشش کریں، خیر کی دعوت دیں اور برائی سے روکیں۔ ہم کسی پر زبردستی نہیں کر سکتے، نہ کسی کے دل میں ہدایت ڈال سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ہماری ہر بات پر عمل کرے۔ البتہ جو ہمارے قریبی دوست ہیں، ہمارے شاگرد ہیں، ہمارے ساتھ محبت کرنے والے ہیں، ان کو ضرور تنبیہ کریں گے، انہیں سمجھائیں گے اور جہاں ضرورت ہوگی وہاں سختی سے بھی کہیں گے کہ یہ کام غلط ہے اور یہ کام درست ہے، کیونکہ محبت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنے چاہنے والوں کو گمراہی سے بچانے کی کوشش کرے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہماری حالت یہ ہو چکی ہے کہ ہم قرآنِ مجید پڑھنے کے لیے تیار نہیں، حدیثِ مبارکہ سننے کے لیے تیار نہیں، جمعہ کے صرف بیس یا پچیس منٹ کے بیان کو بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اکثر لوگ خطبہ جمعہ شروع ہونے کے بعد مسجد پہنچتے ہیں تاکہ صرف فرض نماز ادا کرکے واپس چلے جائیں۔ ہم اپنے والدین کو وقت دینے کے لیے تیار نہیں، ان کی خدمت کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ بعض اوقات اپنے ہی ماں باپ کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے افسوسناک واقعات بھی سامنے آتے ہیں کہ اولاد اپنے والدین کو گھر سے نکال دیتی ہے، ان کے ساتھ بدتمیزی کرتی ہے، تشدد کرتی ہے، بلکہ قتل جیسے سنگین جرائم بھی رونما ہو رہے ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ہمارا اخلاقی اور دینی شعور کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
ایسے حالات میں اگر کوئی شخص حق اور باطل میں فرق جانتا ہو، قرآن و سنت کا علم رکھتا ہو، معاشرے کی خرابیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو اور پھر بھی خاموش رہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کی خاموشی بھی ایک جرم ہے۔ کیونکہ خاموشی بعض اوقات برائی کی تائید بن جاتی ہے۔ ہمارا کام لوگوں کو مایوسی سے نکالنا، انہیں نیکی کی طرف بلانا، اچھے اخلاق کی دعوت دینا، سچ اور حق لکھنا اور معاشرے میں اصلاح کی فکر پیدا کرنا ہے۔ہم نے اپنی زندگی میں بہت سے ایسے علمائ کرام دیکھے ہیں جن کے بھائی یا بیٹے دین پر مکمل عمل نہیں کرتے تھے۔ ہم نے اولیائے کرام کی اولادوں میں بھی ایسے افراد دیکھے جو اپنے بزرگوں کے راستے پر نہ چل سکے۔ حتیٰ کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بعض انبیائے کرام علیہم السلام کی بھی اپنے والدین کے دین پر قائم نہ رہ سکیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، بندے کا کام صرف حق پہنچانا اور اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہے۔ اگر ہم برائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور خاموش رہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس جرم میں ہم بھی برابر کے شریک ہیں۔ اس لیے حق کو حق کہنا چاہیے، غلط کو غلط کہنا چاہیے، اور اپنے اندر اتنی ہمت اور استقامت پیدا کرنی چاہیے کہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ ہوئے بغیر حق کا علم بلند رکھ سکیں۔
اگر کوئی ہماری بات پر عمل نہیں کرتا تو یہ اس کی اپنی مرضی ہے، لیکن حق اور سچ لکھنے والے، وعظ و نصیحت کرنے والے، لوگوں کو قرآن و سنت کی دعوت دینے والے قیامت تک اپنا کام کرتے رہیں گے۔ اگر کچھ لوگ قرآنِ مجید، سنتِ رسول اور احادیثِ مبارکہ پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں تو اس سے حق کی حیثیت ختم نہیں ہو جاتی۔ حق ہمیشہ حق رہے گا، چاہے اسے ماننے والے کم ہوں یا زیادہ۔
حق بات کہنا کبھی آسان نہیں رہا۔ حق کہنے پر بعض اوقات دوستیاں ختم ہو جاتی ہیں، تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں، انسان کو طعنے سننے پڑتے ہیں، بڑی اذیتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں، تکلیفوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، لیکن اس کے باوجود اہلِ حق اپنے مو¿قف سے پیچھے نہیں ہٹتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے اعمال کا جواب بھی دینا ہے۔ اکثر آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ مسجد و مدارس سے تعلق رکھنے والوں کے بچے مسلمان ضرور ہوتے ہیں، لیکن بہت سے داڑھی، عمامہ اور دیگر دینی شعار سے آراستہ نہیں ہوتے۔ اسی طرح ہم نے بہت سی سیاسی اور مذہبی تنظیموں کے ذمہ داران کو دیکھا، گھروں میں محفلِ میلاد سجانے والوں کو دیکھا، قرآن خوانی اور دینی اجتماعات کا اہتمام کرنے والوں کو دیکھا، جہاں بعض اوقات لوگوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن کیا انہوں نے اپنا کام چھوڑ دیا؟ کیا انہوں نے محفلیں سجانا چھوڑ دیں؟ کیا انہوں نے قرآن خوانی یا دین کی خدمت ترک کر دی؟ ہرگز نہیں۔
ہر شخص اپنے مقصد کے ساتھ کھڑا ہے۔ اسی طرح ہمارا بھی کام لوگوں کی اصلاح کرنا، انہیں دین کی طرف لانا، درودِ پاک کی ترغیب دینا، قرآنِ مجید کی تلاوت کی طرف راغب کرنا، نمازوں کی پابندی کا شعور بیدار کرنا اور اسلامی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔ ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم ترازو اٹھا کر لوگوں کے اعمال کا وزن کرتے پھریں کہ کون عمل کر رہا ہے اور کون نہیں۔ جو جتنا اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرے گا، اس کی زندگی میں اتنی ہی برکت، سکون اور کامیابی آئے گی۔
میں اکثر یہ بات کرتا رہتا ہوں کہ دشمنوں کی جانب سے ہمارے نوجوانوں کو سلو پوائزن دیا جا رہا ہے۔ انہیں آہستہ آہستہ دینِ اسلام سے، قرآنِ مجید سے، علماءکرام سے، صوفیائے کرام سے اور اولیائے کرام کی تعلیمات سے دور کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا، بے راہ روی، فحاشی، بے حیائی اور مختلف فکری حملوں کے ذریعے نئی نسل کے عقائد اور کردار کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں گولیاں نہیں چل رہیں، بلکہ نظریات بدلے جا رہے ہیں۔ ایمان کمزور کیا جا رہا ہے، دینی غیرت ختم کی جا رہی ہے اور نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جا رہی ہے کہ دین صرف مسجد تک محدود ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اگر ایسے حالات میں علماءکرام خاموش ہو جائیں، اہلِ قلم خاموش ہو جائیں، خطبائ خاموش ہو جائیں اور وہ لوگ خاموش ہو جائیں جو حق اور باطل میں فرق جانتے ہیں، تو پھر آنے والی نسلوں کی رہنمائی کون کرے گا؟ معاشرے کو صحیح راستہ کون دکھائے گا؟ یہی وجہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس دور میں خاموش رہنا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ ہمیں ہر حال میں خیر کی دعوت دینی ہے، برائی سے روکنا ہے، محبت، اخوت، بھائی چارے اور اسلامی اقدار کو عام کرنا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت، رسولِ اکرم کی محبت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، اہلِ بیتِ اطہار، اولیائے کرام اور صوفیائے کرام کی محبت پیدا کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
آج ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ اگر ہم حق بات جانتے ہوئے بھی خاموش رہیں گے تو آنے والی نسلوں کو کون رہنمائی دے گا؟ اگر علماءکرام، اہلِ قلم، اساتذہ، خطباء، والدین اور معاشرے کے باشعور افراد اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے تو پھر برائی کو روکنے والا کون ہوگا؟ قرآنِ کریم ہمیں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی تعلیم دیتا ہے۔ رسولِ اکرم نے بھی امت کو یہی سبق دیا کہ اپنی استطاعت کے مطابق برائی کو روکنے کی کوشش کرو۔ اگر ہاتھ سے نہ روک سکو تو زبان سے روکو، اور اگر زبان سے بھی نہ روک سکو تو دل میں اسے برا جانو، لیکن برائی کو برائی سمجھنا کبھی نہ چھوڑو۔ اس لیے خاموش رہنا ہر وقت دانشمندی نہیں ہوتا، بعض اوقات خاموشی برائی کو مزید طاقتور بنا دیتی ہے۔
میں یہ بات ہمیشہ کہتا ہوں کہ اصلاح کا کام کوئی کاروبار نہیں، نہ یہ شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور نہ ہی اس کا مقصد لوگوں سے داد وصول کرنا ہے۔ اگر میری کوئی تحریر ہزار لوگ پڑھیں تو بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، اگر صرف ایک شخص پڑھے اور اس کی زندگی میں مثبت تبدیلی آ جائے تو بھی یہ میرے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی ایک جملہ، ایک نصیحت، ایک کالم یا ایک تقریر کسی انسان کی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔ ہمیں اپنی نیت کو خالص رکھنا ہوگا۔ ہمارا مقصد لوگوں کی تعداد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہونی چاہیے۔ اگر ہم صرف اس لیے حق کہنا چھوڑ دیں کہ لوگ سنتے نہیں، عمل نہیں کرتے یا تنقید کرتے ہیں، تو پھر ہم اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائیں گے۔ اہلِ حق کا راستہ ہمیشہ آزمائشوں سے بھرا رہا ہے، لیکن انہوں نے حالات کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ آج معاشرے میں نفرت بڑھ رہی ہے، برداشت کم ہو رہی ہے، والدین کی نافرمانی عام ہو رہی ہے، جھوٹ، دھوکہ، سود، رشوت، بے حیائی، منشیات اور بے دینی نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ ایسے وقت میں اگر ہم قلم بھی چھوڑ دیں، زبان بھی بند کر دیں اور اصلاح کی کوشش بھی ترک کر دیں تو پھر آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ میں اپنے تمام اہلِ قلم، علماءکرام، خطباء، طلبہ اور نوجوانوں سے یہی گزارش کروں گا کہ حالات جیسے بھی ہوں، حق بات کہنا نہ چھوڑیں۔ قرآنِ مجید سے اپنا تعلق مضبوط کریں، سنتِ رسول کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، درودِ پاک کی کثرت کریں، نمازوں کی پابندی کریں اور اپنے گھروں میں دینی ماحول پیدا کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہماری دنیا بھی سنوار سکتا ہے اور آخرت بھی۔ دنیا چاہے کچھ بھی کہے، لوگ تعریف کریں یا تنقید، ہمارے کالم پڑھیں یا بغیر پڑھے حذف کر دیں، ہمیں اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ ہمارا مشن صرف لکھنا نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ، دینِ اسلام کی خدمت، قرآن و سنت کی دعوت، علماءکرام، صوفیائے کرام اور اولیائے کرام کی تعلیمات کو عام کرنا اور نوجوان نسل کے ایمان و کردار کی حفاظت کرنا ہے۔
ہم جو قلم اٹھاتے ہیں، وہ کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اس امید کے ساتھ اٹھاتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ ہماری اس معمولی سی کوشش کو قبول فرما لے، کسی ایک دل میں ہدایت پیدا ہو جائے، کوئی ایک نوجوان نماز کی طرف لوٹ آئے، کوئی ایک گھر قرآنِ کریم سے وابستہ ہو جائے اور کوئی ایک انسان اپنے رب سے اپنا تعلق مضبوط کر لے۔
آخر میں میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ حق کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اہلِ حق آتے رہیں گے، جاتے رہیں گے، مگر حق ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس لیے ہمیں ہر حال میں معاشرے کی اصلاح، نیکی کی دعوت، برائی سے روکنے اور دینِ اسلام کی خدمت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اسے دوسروں تک پہنچانے، باطل کو باطل سمجھنے اور ہر حال میں دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے استقامت کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں