پاکستان کی جمہوری قوتوں کو یکجا کر کے اسے ایک بہترین جمہوری فیڈریشن بنایا جائے، محمود اچکزئی

کوئٹہ /اسلا م آباد(این این آئی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماﺅں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک جس انداز میں چلایا جا رہا ہے، 2024 کے انتخابات جس طرح ہوئے اور جس طرح وردی پوش اہلکاروں نے عوامی مینڈیٹ کو روندا، ملک کے مقبول ترین لیڈر عمران خان اور ان کی پارٹی سے انتخابی نشان چھین کر جو کھیل رچایا گیا اور جو نیا نظام مسلط کیا گیا آپ سب اس کے گواہ ہیں۔ ہم پاکستان کے وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ پاکستان کی جمہوری قوتوں کو یکجا کر کے اسے ایک بہترین جمہوری فیڈریشن بنایا جائے۔ اس کا واحد راستہ یہی ہے کہ پارلیمنٹ ہی طاقت کا اصل سرچشمہ ہو۔ جو پارٹی جیتے وہ حکومت کرے اور جو ہارے وہ اپوزیشن میں رہ کر اپنا کردار ادا کرے۔ دونوں ایک دوسرے کا احترام کریں تاکہ پاکستان پھلے پھولے اور ترقی کرے۔ بدقسمتی سے پاکستان کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے۔ دہائیوں سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سیاست دان ایسے ہیں اور ویسے ہیں، لیکن اگر ہم تاریخ دیکھیں تو فیلڈ مارشل ایوب خان نے 10 سال، مرحوم ضیاءالحق نے 11 سال اور پرویز مشرف نے بلا شرکتِ غیرے 10 سال حکومت کی۔ آخر انہوں نے کیا کیا اور اس ملک کو ان سے کیا ملا؟ یہ ملک جو ایک مستحکم اور متحد پاکستانی قوم بننے کی جانب گامزن تھا آج ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی۔ فوجیوں، ججز اور ہم سیاستدانوں، سب کو یہ ماننا ہوگا کہ ہم گزشتہ 75 سالوں میں ایک متحد پاکستانی قوم بنانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔”ہم نے نفرتوں کو ہوا دی۔ ان نفرتوں کے نتیجے میں، جن سیاسی رہنما¶ں سے یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ عوام کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں، انہیں یا تو پھانسی دے دی جاتی ہے، جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے یا دیگر سزا¶ں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج یہ تمہید اس لیے باندھنی پڑی کہ ہم وہ لوگ ہیں جو اپنے بدترین سیاسی مخالفین کی ما¶ں اور بہنوں کا بھی مکمل احترام کرتے ہیں۔ میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہتا ہوںجس میں تمام جماعتیں بشمول پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول ترین پارٹی، عمران خان اور علامہ راجہ ناصر صاحب بھی شامل ہیںکہ ہم اپنے کارکنان اور ذمہ داران کو واضح ہدایت کرتے ہیں کہ جو شخص بھی ہمارے کسی مخالف کی ماں، بہن یا بیٹی کے خلاف کوئی نازیبا بات لکھے گا، ہم اس سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کریں گے۔ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔گالی گلوچ کی سیاست نے اس ملک کو بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، اور ہم دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اسی مثبت رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ آئیں، مل کر پاکستان کو چلائیں اور اسے بچائیں۔پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ صرف پارلیمنٹ ہو، عدلیہ اپنے دائرہ کار میں مکمل آزاد ہو، اور صحافت پر کوئی پابندی نہ ہو (پیکا جیسے قوانین کا خاتمہ ہو)۔ جہاں تک افواجِ پاکستان کا تعلق ہے، اللہ انہیں دنیا کی بہترین فوج بنائے، لیکن انہیں بھی آئین کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تبھی یہ ملک ترقی کرے گا اور پھلے پھولے گا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ان حالات میں کہ پاکستان کے طول وعرض میں آگ لگی ہوئی ہے ،روزانہ کی بنیاد پر80یا 90سے زیادہ آدمی پولیس ، رینجر،عوام کی شکل میں گولیوں سے مرتے ہیں۔ ان حالات میں ایک امید پیدا ہو گئی تھی اور ہم سوچ رہے تھے کہ ‘دیر آید درست آید۔ پاکستان کی عدالتِ عالیہ نے عمران خان کی صحت سے متعلق زیرِ گردش افواہوں (جیسے بلڈ پریشر کا بڑھنا اور آنکھوں کی تکلیف) کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔اس مثبت پیش رفت پر مکمل تعاون کرتے ہوئے، پاکستان تحریکِ انصاف نے ملک بھر میں اعلان کیا کہ ہسپتال کے اطراف کوئی ہجوم اکٹھا نہیں ہوگا، نہ ہی کوئی نعرے بازی، بدنظمی یا جلسہ جلوس ہوگا۔ان سب کے باوجود، رات کے اندھیرے میں نامعلوم عناصر نے مداخلت کی۔ ہر ادارے میں کچھ کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ پاکستان جمہوریت کے راستے پر گامزن ہو۔ اگر عمران خان جیل کی کوٹھری کے بجائے ہسپتال کے بستر پر ایک ہفتہ زیرِ علاج رہتے اور ڈاکٹر ان کا مناسب معائنہ کر لیتے، تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑتا؟رات کے وقت جب میں نے سنا کہ انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے، تو مجھے دلی خوشی ہوئی کہ وہ کم از کم ایک دو دن وہاں زیرِ علاج رہیں گے۔ تاہم، صبح معلوم ہوا کہ صورتحال مزید تنزلی کی جانب جا رہی ہے۔”ان حالات میں ایسے مواقع کو ضائع کرنا اس ملک سے غداری کے مترادف ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، پاکستان کی مقبول ترین جماعت عمران خان کی ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ وہ اس وقت ضمیر کے قیدی ہیں جو اپنے اصولوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ عمران خان ٹوٹا نہیں۔ سُننے میں یہ آیا ہے کہ عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ محمد مرسی جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قیدِ تنہائی (Isolation) میں رکھ کر اذیت دی جا رہی ہے۔ہماری کسی سے کوئی ذاتی مخاصمت نہیں؛ نہ کسی فوجی سے، نہ شہباز شریف سے اور نہ ہی نواز شریف سے۔ ہمارا اختلاف صرف ان قوتوں سے ہے جو پاکستان میں آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کو تسلیم نہیں کرتیں اور جو غریب عوام کے لیے روٹی پانی کا بندوبست نہیں کرتیں۔ہم اس کے خلاف نہ تو گالیاں دیں گے اور نہ ہی پتھر اٹھائیں گے بلکہ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا جس میں ہم جلسے اور جلوس نکالیں گے۔ کل کے واقعے کے حوالے سے تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت یہاں موجود ہے، جو آپ کو مزید تفصیلات بتائے گی۔ تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان اور ہماری تمام اتحادی جماعتیں ان کے ساتھ سو فیصد یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ہم سب ایک پیج پر ہیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب ایک ‘متحدہ اپوزیشن’ بنانے کے لیے اہم پیش رفت ہو رہی ہے جس کے لیے ہم سب کوشاں ہیں۔ خدا اس اتحاد کو نظرِ بد سے بچائے تاکہ ہم اس بحران سے نکل کر عوام اور فوج دونوں کی جان چھڑا سکیں اور ایک حقیقی جمہوری پاکستان کی تشکیل کی جانب قدم بڑھا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں