کوئٹہ۔۔پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صوبائی سینئر نائب صدر اور معروف قبائلی و سیاسی شخصیت سید صادق آغا نے بلوچستان کے صوبائی بجٹ کو صوبے کی ضروریات، عوامی توقعات اور زمینی حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فارم 47 کی پیداوار بوگس حکومت ایک مرتبہ پھر عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ بجٹ میں نہ تو مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود ہے اور نہ ہی بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اقدامات نظر آتے ہیں۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ بلوچستان ملک کا سب سے بڑا مگر پسماندہ صوبہ ہے، جہاں تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، مواصلات اور بنیادی انفراسٹرکچر کے سنگین مسائل موجود ہیں، لیکن حکومت نے ان شعبوں کے لیے ایسے اقدامات نہیں کیے جو عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکیں۔ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے بلند و بانگ دعوے تو کیے گئے ہیں مگر ماضی کی طرح ان پر عملدرآمد کے حوالے سے سنجیدہ منصوبہ بندی دکھائی نہیں دیتی۔ سید صادق آغا نے کہا کہ صوبے کے نوجوان بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ کسان، مزدور، سرکاری ملازمین اور چھوٹے کاروباری طبقے بھی شدید دباو¿ میں ہیں۔ اس کے باوجود حکومت نے ان طبقات کو ریلیف دینے کے لیے کوئی مو¿ثر پالیسی متعارف نہیں کرائی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو امید تھی کہ بجٹ میں روزگار، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی جائے گی، لیکن موجودہ بجٹ عوامی امنگوں پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے، مگر بدقسمتی سے صوبے کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف عوام کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور ایسے بجٹ کی حمایت نہیں کر سکتی جو عوامی مشکلات میں کمی کے بجائے مزید اضافہ کرے۔
بجٹ ۔۔ مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا‘ سید صادق آغا
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل