واشنگٹن (ویب ڈیسک 15جولائی 2026)امریکہ ڈرونز کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط کرنے کی جانب گامزن ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرو ویرونمنٹ نامی کمپنی نے اعلان کیا کہ اسے امریکی فضائیہ کو ٹائٹن ایم ایس سسٹم فراہم کرنے کے لیے 80.5 ملین ڈالر کا معاہدہ ملا ہے۔ یہ ایک جدید ترین نظام ہے جسے فوجی اڈوں اور تزویراتی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ڈرونز کی نگرانی، سراغ رسانی اور انہیں ناکارہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔یہ معاہدہ امریکی فضائیہ کی گلوبل اسٹرائیک کمانڈ کے ڈومیسٹک شیلڈ پروگرام کا حصہ ہے، جس کی ذمہ داری امریکہ کی اہم ترین فوجی تنصیبات اور تزویراتی ڈیٹرنس صلاحیتوں کا تحفظ کرنا ہے۔یہ نیا سسٹم کوئی میزائل یا انرجی ہتھیار نہیں ہے، بلکہ یہ الیکٹرانک وارفیئر پر مشتمل ایک پیکیج ہے جو ریڈیو فریکوئنسی سگنلز کو جام کرنے اور جی این ایس ایس سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم تک رسائی کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ٹائٹن ایم ایس سسٹم راڈار آپٹیکل سینسرز اور دیگر آلات کے ڈیٹا کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کے حامل الگورتھم شامل ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ریئل ٹائم میں ڈرونز کو دریافت کرنے، ان کی درجہ بندی کرنے اور ان کا تعاقب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔کمپنی کے مطابق یہ سسٹم ایک ہی وقت میں 500 سے زائد اہداف سے نمٹنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ ڈرونز کو جام کرنے اور ناکارہ بنانے کے لیے الیکٹرانک وارفیئر کے ذرائع استعمال کرتا ہے، جس سے روایتی اور مہنگے ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔یہ صلاحیتیں اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ آج کل چھوٹے ڈرونز کا سراغ لگانا ایک چیلنج ہے، کیونکہ ان کا ریڈار سائز محدود، آواز کم اور پرواز کے راستے غیر متوقع ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں پرندوں یا دیگر عام طیاروں سے الگ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ٹائٹن ایم ایس ایکٹیو راڈار، ریڈیو فریکوئنسی کی سراغ رسانی اور بصری تصدیق کے ذریعے اس مشکل کو حل کرتا ہے۔اس سسٹم کی تیاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کم قیمت ڈرونز دنیا بھر کی فوجوں کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔ جدید تنازعات، چاہے وہ روس اور یوکرین کی جنگ ہو یا مشرقِ وسطی کے حالات، ان میں ڈرونز فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کے لیے انتہائی مثر ثابت ہوئے ہیں۔امریکی فوج سمجھتی ہے کہ اس قسم کے خطرات کے لیے ایسے دفاعی نظام کی ضرورت ہے جو چھوٹے اہداف کو فوری طور پر پہچان کر ان کا خاتمہ کر سکے۔ خاص طور پر جاسوسی اور درست حملوں میں ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اس ضرورت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ٹائٹن ایم ایس سسٹم کو گلوبل اسٹرائیک کمانڈ کے زیرِ انتظام متعدد اڈوں پر نصب کیا جائے گا، جس کا مقصد حساس فوجی تنصیباتکو ممکنہ ڈرون حملوں سے بچانا ہے۔امریکی محکمہ دفاع کا کہنا تھا کہ ڈرون مخالف نظاموں میں سرمایہ کاری ایک بڑھتی ہوئی ترجیح ہے، کیونکہ ان ٹیکنالوجیز میں تیز رفتار ترقی ہو رہی ہے اور باقاعدہ فوجوں کے ساتھ ساتھ مسلح گروہ بھی ان کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن مصنوعی ذہانت اور الیکٹرانک وارفیئر پر مبنی نظاموں کو فروغ دے رہا ہے تاکہ نئے سکیورٹی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
امریکہ کا ڈرونز کو ناکارہ بنانے والا نیا نظام، 80 ملین ڈالر کا معاہدہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل