کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران یوریا کھاد کی قیمت میں 129 فیصد جبکہ ڈی اے پی کی قیمت میں 75 فیصد اضافہ کسانوں کی مالی مشکلات میں بے پناہ اضافے کا باعث بنا ہے۔ 2021-22 میں یوریا کے 50 کلو گرام تھیلے کی قیمت 1,913 روپے تھی جو 2025-26 میں بڑھ کر 4,378 روپے ہوگئی، جبکہ ڈی اے پی کا تھیلا 8,227 روپے سے بڑھ کر 14,223 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ایسے حالات میں بلوچستان کے کسان شدید مالی دباو¿ کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھاد کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اضافہ محض ایک زرعی ان پٹ کی مہنگائی نہیں بلکہ اس کے براہِ راست اثرات پوری زرعی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ مہنگی کھاد، معیاری بیج، بجلی، ڈیزل اور زرعی ادویات کی بڑھتی ہوئی لاگت نے فصلوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کسان کا منافع مسلسل سکڑ رہا ہے اور زرعی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہےسینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ چھوٹا اور متوسط کسان اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس اضافی سرمایہ کاری یا نقصان برداشت کرنے کی گنجائش محدود ہوتی ہے۔ اگر پیداواری لاگت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو کسان کے لیے زراعت سے وابستہ رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا کہ حکومت کسانوں کو معیاری اور تصدیق شدہ بیج، وافر مقدار میں معیاری کھاد اور دیگر زرعی مداخل رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے ایک مو¿ثر اور شفاف نظام وضع کرے۔ صرف سبسڈی کا اعلان کافی نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ سبسڈی کا حقیقی فائدہ براہِ راست کسان تک پہنچے۔انہوں نے کہا کہ کھاد اور معیاری بیج کی قیمتوں کو قابو میں نہ رکھا گیا تو اس کے اثرات صرف کسان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان کی غذائی سلامتی، کسان کی معاشی بقا اور زرعی خود کفالت بھی شدید متاثر ہوسکتی ہے۔ زرعی شعبہ لاکھوں خاندانوں کے روزگار اور ملکی غذائی ضروریات کا بنیادی ذریعہ ہے، اس لیے اسے قومی معیشت کی بنیاد سمجھتے ہوئے فوری اور مستقل پالیسی اقدامات کرنا ہوں گے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے حکومت پر زور دیا کہ کسانوں کو فوری ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کے لیے مستقل، قابلِ عمل اور طویل المدتی پالیسی تشکیل دی جائے، تاکہ پیداواری لاگت کم ہو، کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملے، زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور ملک کو غذائی خود کفالت کی طرف لے جایا جا سکے۔
ڈی اے پی کی قیمت میں 75 فیصد اضافہ کسانوں کی مالی مشکلات میں بے پناہ اضافہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل