پولیو بوسٹر ڈوز مہم میں تمام بچوں کے ساتھ مساوی برتاؤ یقینی بنایا جائے۔ حافظ محمد صدیق مدنی

چمن( نامہ نگار)ضلع چمن میں بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ بنانے کے لیے fIPV پولیو بوسٹر ڈوز مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ مہم کا مقصد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے محفوظ بنا کر پاکستان کو پولیو فری بنانے کے قومی ہدف کے حصول میں پیش رفت کرنا ہے جس کے لیے والدین، علما، اساتذہ، مدارس، مساجد اور معاشرے کے تمام طبقات کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ شمشاد رائٹرز فورم پاکستان کے مرکزی صدر اور پاکستان یوتھ پارلیمنٹ کے ممبر حافظ محمد صدیق مدنی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مدرسہ بحرالعلوم گھوڑا ہسپتال روڈ چمن میں قائم گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول (جامع مسجد محلہ شیخ الحدیث حضرت مولانا فتح محمد چمنی رحمہ اللہ) میں بھی محکمۂ صحت کی ٹیم نے بچوں کو fIPV پولیو بوسٹر ڈوز لگائی جس کا وہ خیرمقدم کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین لگانے کے بعد دیگر بچوں کو آگاہی اور حوصلہ افزائی کے طور پر صابن فراہم کیا جا رہا تھا لیکن مدرسہ اور مسجد میں موجود بچوں کو صابن نہیں دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب پولیو ٹیم سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو ٹیم نے جواب دیا کہ مدرسہ اور مسجد کے بچوں کو صابن نہیں دیا جاتا کیونکہ ان کے بقول یہ صرف گھروں میں ویکسین لگوانے والے بچوں کے لیے پالیسی کے تحت مختص ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی ایسی کوئی پالیسی موجود ہے تو یہ قابلِ غور معاملہ ہے کیونکہ صحتِ عامہ کی مہمات میں تمام بچوں کے ساتھ بلاامتیاز اور مساوی سلوک ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کسی بھی قسم کی تفریق سے بالاتر ہے اور ہر بچہ یکساں احترام، توجہ اور سہولت کا مستحق ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ مدرسہ، جامع مسجد اور گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول نے ہمیشہ ہر پولیو مہم میں بھرپور تعاون کیا ہے۔ اس مرتبہ بھی جامع مسجد میں پولیو ویکسینیشن سینٹر قائم کرکے بچوں کو ویکسین لگانے کے لیے مکمل سہولیات فراہم کی گئیں۔ ایسے تعاون کرنے والے اداروں اور وہاں زیرِ تعلیم بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی رویہ نہ صرف حوصلہ شکنی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ مستقبل میں عوامی تعاون پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر چمن، ضلعی محکمۂ صحت، ای او سی بلوچستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ اگر یہ واقعی کوئی پالیسی ہے تو اس پر نظرثانی کی جائے اور اگر یہ کسی ٹیم کی انفرادی کارروائی تھی تو آئندہ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے واضح ہدایات جاری کی جائیں تاکہ ہر بچے کے ساتھ مساوی اور منصفانہ برتاؤ یقینی بنایا جا سکے۔
حافظ محمد صدیق مدنی نے واضح کیا کہ وہ اور ان کا ادارہ پولیو کے خاتمے کی قومی مہم کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور مستقبل میں بھی ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے تاہم صحتِ عامہ کی ایسی مہمات میں تمام بچوں کے ساتھ بلاامتیاز اور یکساں سلوک کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو اور پاکستان کو جلد از جلد پولیو سے پاک بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں