جیکب آباد (رپورٹ انیس جکھرانی) جمعیت علماء اسلام کی جانب سے سندھ میں زرعی پانی کی شدید قلت، مرزا شاخ میں پانی کی عدم فراہمی اور پریا کماری و فضیلہ سرکی کی بازیابی کے لیے جامع مسجد مبارک پور سے امیر ڈاکٹر اے جی انصاری، حاجی محمد عباس بنگلانی، عبدالرشید بھٹو، قاری محمد عثمان بھٹو، حاجی مختیار احمد، محمد ابراہیم بڑڑو اور دیگر رہنماو¿ں کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ نکالا گیا۔ مظاہرین شہر کی مختلف سڑکوں سے ہوتے ہوئے امروٹی چوک پہنچے، جہاں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں زرعی پانی کی مصنوعی قلت کے باعث کاشتکار شدید بحران کا شکار ہیں، جبکہ مرزا شاخ میں پانی نہ ہونے سے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہو رہی ہے اور فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے آئینی حصے کا پانی فوری طور پر فراہم کیا جائے اور مرزا شاخ میں بلا تاخیر پانی چھوڑا جائے تاکہ کاشتکاروں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ مقررین نے مزید کہا کہ پریا کماری اور فضیلہ سرکی کی گمشدگی انتہائی افسوسناک ہے، حکومت اور متعلقہ ادارے دونوں بچیوں کو فوری طور پر بازیاب کرا کے ان کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر زرعی پانی کی قلت کا مسئلہ فوری حل نہ کیا گیا اور پریا کماری و فضیلہ سرکی کو جلد بازیاب نہ کرایا گیا تو جمعیت علماء اسلام احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
جیکب آباد: زرعی پانی کی قلت، پریا کماری اور فضیلہ سرکی کی بازیابی کےلئے جے یو آئی کا احتجاجی مظاہرہ اور نعرے
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل