کھیرتھر کینال میں زرعی پانی کی قلت شدت اختیار کرچکی ہے‘ میر حسن شہلیانی

اوستا محمد( منظور احمد قمبرانی)معروف زمیندار میر حسن خان شہلیانی میر خالد خان جمالی علی بخش جمالی ظفراللہ شہلیانی عمران خان جمالی ناصر جمالی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کھیرتھر کینال میں زرعی پانی کی قلت شدت اختیار کرچکی ہے جبکہ ہمارا علاقہ زراعت سے وابستہ ہے زرعی پانی نا ہونے سے بیج کو بڑا نقصان ہو رہا ہے اور مال مویشی بھی پیاس سے مر رہے علاقے کے زمیندار اور کاشتکار سخت پریشان ہیں روایت کے مطابق اس سال بھی سندھ حکومت کی ڈائریکٹر آپریشنز فخرالدین مری کی سربراہی میں عمل میں لائی گئی۔اس دوران ٹیموں نےتقریباً 22 ایکڑ اراضی پر زیر کاشت و تیار مضر صحت فصلوں کو تلف کیا تاکہ یہ سبزیاں مارکیٹ تک نہ پہنچ سکیں اور شہریوں کی صحت کو لاحق خطرات کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔مہم سے متعلق ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان نے کہا کہ عدالتِ عالیہ کے احکامات اور حکومتی ہدایات کے باوجود سیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نالوں اور سیوریج کے پانی سے اگائی گئی خوردنی فصلیں انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ ان میں مضر جراثیم، بھاری دھاتیں اور دیگر آلودہ اجزاءموجود ہوتے ہیں، جو مختلف مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی مرحلہ وار دیگر علاقوں میں بھی ایسی مضر صحت سبزیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھے گی اور جہاں کہیں بھی نالوں کے پانی سے اگائی گئی خوردنی سبزیاں پائی گئیں، انہیں فوری طور پر تلف کیا جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں