کوئٹہ/ژوب (03جولائی2026)
بلوچستان کے ضلع شیرانی میںمسافر بس کھائی میں گرنے سے کم از کم 40 افراد جاں بحق جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے ۔حکام کے مطابق حادثہ جمعے کی صبح کوئٹہ سے تقریباً 400 کلومیٹر دور بلوچستان کے ضلع شیرانی کے پہاڑی علاقے دہانہ سر میں پیش آیا جہاں کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر بس ڈرائیور سے بے قابو ہوکر گہری کھائی میں جا گری۔ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت علی کاکڑ نے بتایا کہ حادثے میں 40 افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں کو ریسکیو کرلیا گیا اور انہیں ژوب منتقل کیا جارہا ہے۔جائے وقوعہ پر موجود ریسکیو 1122 مانی خواہ شیرانی کے انچارج ثنا اللہ نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ بس 70فٹ سے زیادہ گہری کھائی میں گری جس کے نتیجے میں اس کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ کئی مسافر اس تباہ شدہ بس کے ڈھانچے کے اندر بری طرح پھنس گئے تھے جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو اہلکاروں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے سب سے پہلے زخمیوں کو نکالا تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے اور انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے ژوب روانہ کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ قریب ترین بڑا سرکاری ہسپتال ژوب میں واقع ہے جو جائے وقوعہ سے 70 سے 80 کلومیٹر دور ہے۔انہوں نے بتایا کہ حادثے کی جگہ سے 40 لاشیں نکال لی گئی ہیں مرنے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔بس کمپنی کے مطابق کوئٹہ سے روانگی کے وقت بس میں 36 مسافر سوار تھے۔ ڈپٹی کمشنر شیرانی نے بتایا کہ راستے میں ایک دوسری بس خراب ہونے پر ڈرائیور نے اس کے مسافروں کو بھی اسی بس میں منتقل کر دیا گیا جس کے باعث مسافروں کی تعداد بڑھ گئی تھی اور زیادہ جانی نقصان ہوا۔حادثے جس علاقے میں پیش آیا وہ پہاڑی اور غیرآباد ہے۔ حکام کے مطابق قریب سے گزرنے والی ایک پک اپ گاڑی کے ڈرائیور نے قریبی سکیورٹی چوکی پر آکر حادثے کی اطلاع دی جس کے بعد ریسکیو کا کام شروع کیا گیا۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی شیرانی، ژوب اور خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم کے مطابق ضلع کے سول ہسپتال اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ ژوب سے 20 ایمبولینسیں بھی جائے وقوعہ روانہ کی گئیں۔ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کے کنٹرول روم کے مطابق بلوچستان حکومت کی درخواست پر خیبر پختونخوا حکومت نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور ڈیرہ اسماعیل خان سے دو ریسکیو ٹیمیں چھ ایمبولینسوں کے ساتھ روانہ کی گئیں۔علاقے میں تعینات ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جائے حادثہ سے کچھ فاصلے پر ایک سکیورٹی چوکی قائم ہے جہاں صوبے سے باہر جانے والی گاڑیوں اور بسوں کی چیکنگ کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق حادثے کا شکار بس کو بھی اسی چوکی پر کافی دیر تک روکا گیا۔ بس میں اضافی ایرانی ڈیزل موجود تھا جسے سکیورٹی اہلکاروں نے اتار لیاتھا۔ان کے بقول ممکن ہے کہ اس تاخیر کے بعد ڈرائیور نے رفتار تیز کر دی ہوحادثے میں زخمی ہونے والے عینی شاہد مسافر حسین احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ بس ڈرائیور نے جان بوجھ کر گاڑی کھائی میں گرائی تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔سول ہسپتال ژوب ٹراما سینٹر میں زیر علاج حسین احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ راستے میں بس خراب ہونے پر وہ ایک اور مسافر کے ساتھ پشاور جانے والی اس بس میں سوار ہوئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سفر کے دوران بس میں موجود مسافروں اور ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی ہو رہی تھی۔حسین احمد کے مطابق ڈرائیور مسافروں سے کہہ رہا تھا کہ ’تمہاری وجہ سے میرا ڈیزل (پکڑا گیا) ضائع ہوا۔‘ انہوں نے الزام لگایا کہ بحث کے دوران ڈرائیور نے غصے میں آ کر سٹیئرنگ موڑا جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔ زخمی کے بقول ان کا خیال ہے کہ ڈرائیور بھی اس حادثے میں زندہ نہیں بچا۔تاہم سرکاری طور پر حکام نے اب تک اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور بتایا کہ حادثے کی تمام پہلوو¿ں پر تحقیقات جاری ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ مسافروں کے ساتھ مبینہ بحث و تکرار کے دوران ڈرائیور کی توجہ سڑک سے ہٹ گئی ہو جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔
بلوچستان ‘ شیرانی میں مسافر بس کھائی میں گرنے سے 40 افراد جاں بحق ‘آٹھ افراد زخمی