لورالائی میں طوفانی بارش اور تیز آندھی سے تباہی، زمینداروں کے لاکھوں روپے مالیت کے سولر پینلز تباہ، شدید مالی نقصان

لورالائی(میاں محمدعامربشیر آرائیں )گزشتہ روز لورالائی اور گردونواح میں ہونے والی طوفانی بارش، ژالہ باری اور تیز رفتار آندھی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں زمینداروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ مختلف علاقوں میں نصب لاکھوں روپے مالیت کے سولر پینلز، سولر اسٹرکچر، پانی کے پائپ اور دیگر زرعی تنصیبات شدید متاثر ہوئیں جبکہ متعدد مقامات پر ٹیوب ویلوں کے سولر سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔شدید آندھی کے باعث کئی سولر پینلز اپنی جگہوں سے اکھڑ کر دور جا گرے، متعدد پینلز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے اور ان کے لوہے کے فریم بھی مڑ گئے۔ اس نقصان کے باعث کئی زمینداروں کے ٹیوب ویل بند ہو گئے، جس سے فصلوں کی آبپاشی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق بروقت آبپاشی نہ ہونے کی صورت میں کھڑی فصلوں کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔متاثرہ زمینداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر اپنی جمع پونجی، قرض اور دیگر ذرائع سے سرمایہ اکٹھا کرکے سولر سسٹمز نصب کیے تھے، مگر چند گھنٹوں کی شدید آندھی نے ان کی برسوں کی محنت اور سرمایہ کاری کو تباہ کر دیا۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں اتنے بڑے نقصان کی تلافی ان کے لیے ممکن نہیں۔طوفانی موسم کے دوران بعض علاقوں میں درخت بھی جڑوں سے اکھڑ گئے، بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی اور کئی دیہی رابطہ سڑکوں پر مٹی اور ملبہ جمع ہونے سے آمدورفت میں بھی مشکلات پیش آئیں۔ شہریوں نے موسمی شدت کے باعث پیش آنے والے نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
متاثرہ کسانوں اور زمینداروں نے حکومت بلوچستان، ضلعیانتظامیہ، محکمہ زراعت اور پی ڈی ایم اے سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں کا سروے کرایا جائے، نقصانات کا تخمینہ لگا کر زمینداروں کو مالی معاوضہ، بلاسود قرضے یا خصوصی امدادی پیکج فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے سولر سسٹمز دوبارہ نصب کرکے زرعی سرگرمیاں بحال کر سکیں۔
عوامی حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے ہوئے شدید موسمی واقعات کے پیش نظر زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے، کسانوں کے لیے زرعی انشورنس اور قدرتی آفات سے تحفظ کے منصوبوں کو فعال بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں