بلوچستان کا نوجوان امن، ترقی، تعلیم اور ریاستی استحکام کے ساتھ کھڑا ہے‘ سرفراز بگٹی

اسلام آباد(خ ن)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بعض عناصر لاپتہ افراد اور عوامی حقوق کی آڑ میں نوجوانوں کو تشدد پر اکسانے اور ریاست مخالف بیانیہ پروان چڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم ایسے مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان کی انتہائی پیشہ ورانہ، منظم اور باصلاحیت مسلح افواج، پیرا ملٹری فورسز، پولیس اور لیویز کی موجودگی میں چند پرتشدد عناصر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر منعقدہ اوپن ایکس اسپیس کے دوران مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، نوجوانوں، سب نیشنلسٹ حلقوں، این جی اوز کے نمائندوں، ناقدین اور سول سوسائٹی کے ارکان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ اوپن اسپیس میں ایک موقع پر شرکاءکی تعداد سولہ ہزار سے تجاوز کر گئی جہاں وزیراعلیٰ نے سخت اور تنقیدی سوالات کے بھی حقائق، اعداد و شمار اور شواہد کی بنیاد پر تفصیلی جوابات دیے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح بلوچستان کے نوجوان ہیں اور اسی مقصد کیلئے یوتھ انگیجمنٹ پلان حکومت کا سب سے اہم پروگرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کے پاس نوجوانوں کی قومی دھارے میں شمولیت، انہیں مثبت مواقع فراہم کرنے اور روشن مستقبل کی جانب گامزن کرنے کیلئے دس سے بارہ مختلف منصوبے زیر عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مایوسی، انتہاپسندی اور تشدد کے بجائے تعلیم، ہنر، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہی دیرپا امن کی ضمانت ہے انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ضلع کی ضروریات اور معاشی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ الگ ترقیاتی منصوبے تیار کر رہی ہے جس میں گوادر کے نوجوانوں کیلئے فشریز اور سمندری معیشت سے متعلق خصوصی مواقع بھی شاملہیں، جبکہ دیگر اضلاع کیلئے بھی ان کی مقامی ضروریات کے مطابق منصوبے ترتیب دیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کو ایپکس کمیٹی میں منظوری کے بعد مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض گروہوں نے لاپتہ افراد اور عوامی حقوق کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں تشدد کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ایسے عناصر مختلف علاقوں میں جا کر نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسانے اور پرتشدد کارروائیوں کیلئے بھرتی کرنے کی کوشش کرتے رہے، تاہم حکومت نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، تعلیم، مکالمے اور روزگار کے ذریعے قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے پرعزم ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے پہلی مرتبہ پنشن اصلاحات نافذ کیں، گزشتہ مالی سال کے دوران غیر ترقیاتی اخراجات میں چودہ ارب روپے کی کمی کی، جبکہ صوبے میں الیکٹرک وہیکلز پالیسی بھی متعارف کرائی جا رہی ہے تاکہ جدید، ماحول دوست اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دیا جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت نے مالی نظم و ضبط قائم کرتے ہوئے زکوٰة کی تقسیم کے پرانے نظام میں بنیادی اصلاحات کیں۔ ماضی میں ساٹھ کروڑ روپے کی زکوٰة تقسیم کرنے کیلئے ایک ارب تیس کروڑ روپے انتظامی اخراجات پر صرف کیے جاتے تھے تاہم حکومت نے زکوٰة محکمہ ختم کرکے یہ وسائل بلوچستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ میں منتقل کیے، جہاں سے اب مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے چار ارب روپے کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت بلوچستان کے ہر ضلع، ہر گاو¿ں، ہر دیہات، تمام سرکاری اسکولوں، کالجوں، جامعات اور صحت کے مراکز کو فائبر آپٹک کے ذریعے تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ نوجوان جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے مو¿ثر اقدامات کیے ہیں تاکہ صوبے کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور قانونی تجارت کو فروغ ملے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت نوجوانوں سے مسلسل رابطے، کھلے مکالمے اور اعتماد سازی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ہم یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جا کر نوجوانوں سے براہ راست گفتگو کر رہےہیں، ان کے سخت ترین سوالات بھی تحمل اور دلیل کے ساتھ سنے اور جواب دیے جاتے ہیں، صوبے میں مختلف اسکالرشپ پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئیں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے صوبے کی طالبات کیلئے دنیا کی ممتاز جامعات، بشمول ہارورڈ اور آکسفورڈ، میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع تک رسائی کے دروازے کھولے ہیں، جو صوبے میں خواتین کی تعلیم اور بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام، بالخصوص نوجوان، پاکستان کے روشن مستقبل کا سرمایہ ہیں اور حکومت انہیں ہر ممکن مواقع فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے سیاسی اور سماجی امور کے ماہرین نے اوپن ایکس اسپیس کو بلوچستان سے متعلق حقائق عوام کے سامنے لانے کی ایک مو¿ثر کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے شواہد، اعداد و شمار اور دلیل کے ساتھ بلوچستان کے حوالے سے گمراہ کن بیانیے کا مو¿ثر جواب دیا۔ ماہرین کے مطابق ہزاروں نوجوانوں کی اس مکالمے میں شرکت اور ریاستی مو¿قف کی تائید اس امر کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کا نوجوان امن، ترقی، تعلیم اور ریاستی استحکام کے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کا براہ راست عوامی مکالمہ اور سخت سوالات کے تحمل سے جواب دینا شفاف طرز حکمرانی اور مو¿ثر عوامی رابطے کی بہترین مثال ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں